.

فلسفیانہ خیالات کو مجسمہ سازی کی تخلیق میں ڈھالنے والے سعودی آرٹسٹ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک نفسیاتی اور فلسفیانہ علوم کے ماہر نے اپنے علم کو مجسمہ سازی کے آرٹ میں بدل کر حیران کر دیا ہے۔

مجسمہ سازخالد العنقری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو فلسفیانہ مطالعے کوآرٹ میں بدلنے کے بارے میں بتایا کہ اس نے آرٹ کے مشغلے اور شوق کو آگے بڑھانے کے لیے فلسفیانہ اور نفسیاتی علوم کا استعمال کیا ہے۔ وہ گذشتہ بیس سال سے سنگ مرمر اور دیگر پتھروں پر مجسمہ سازی کےمیدان میں ایک ماہر کے طور پر کام کر رہا ہے۔

مجسمہ ساز خالد العنقری نے کہا کہ "میں اپنے بچپن سے ہی پتھروں کے ٹکڑوں کو جمع کرنے اورانہیں مختلف ماڈلز میں تبدیل کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ میں نے ایک طویل عرصہ مجسمہ سازی کے فن پر تحقیق میں صرف کیا۔ اس میدان میں ہونے والی تحقیق اور کتب کا مطالعہ کیا۔مجسمہ سازی اور ابتداء کے طریقوں کے بارے میں ویڈیوز دیکھیں۔ اس گہری تحقیق کے دوران پتھر اور چٹان کی نقش نگاری سے متعلق ایک وسیع فنی مواد جمع کیا اور میں نے ان پتھروں کی اقسام کے بارے میں سیکھا ہے جن ہیں فن پاروں اور ماڈلز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

العنقری نے بتایا کہ 1994-1995 میں میں نے اپنا پہلا آرٹ ورک جاری کیا۔ یہ تجریدی آرٹ کا ایک نمونہ تھا۔ اس کی تیاری میں مکمل پیشہ وارانہ مہارت کا استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد اسے نقادوں ، فائن آرٹ کےماہرین اور مجسمہ سازوں کے سامنے اسے پیش کیا۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے یہ کام جاری رکھنےکی ترغیب دی۔

العنقری کا کہنا ہے کہ وہ جن فن پاروں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ ’فطرت‘ سے متعلق ہیں۔ ان فطری مناظر میں پہاڑوں اور قدرتی چٹانوں کی تشکیل کے علاوہ مجسمہ ساز عبداللہ عبداللطیف کے۔ دوادمی شہر کے ان گنت نمونےاس کی ’انسپائریشن‘ ہیں۔

فن میں حب الوطنی کا پہلو

العنقری نے کہا کہ میں مجسمہ سازی کے اپنے عمل کو قوم کی نمائندگی کرنے اور اس کی امنگوں کے حصول میں شراکت کے لیے باعث فخر اور اعزاز کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجسمہ آرٹ پر عمل کرنے کی خواہش اورجذبہ رکھنے والے کسی بھی آرٹسٹ کوحب الوطنی کے جذبات سے سرشارہونا چاہیے۔ اس کے بعد اسے اپنے کام میں صبر و تحمل، غور و فکر ،چھونے اور دیکھنے فیصلہ سازی اور تحقیق کا بلند درجہ ایک فنکارانہ احساس ہونا چاہئے۔ ایک مجسمہ سازی کے فن کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ آرٹ دوسرے فنون سے کئی حوالوں سے مختلف ہے۔

یہ آرٹ تصویری شکل جیسے فوٹو گرافی جیسا نہیں۔ بلکہ یہ تھری ڈی اشکال پر مشتمل آرٹ ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ فنکارانہ خوشی صرف مجسمہ سازی دیکھنے سے نہیں بلکہ یہ چھونے اور مجسمہ کے حرکت سے مکمل ہوتی ہے۔

العنقری نے مزید کہا کہ ہزاروں سال پہلے تہذیبوں میں مجسمہ سازی کا کلیدی کردار ہے۔ اگر ہم ایک ایسی تہذیب کی تعمیر چاہتے ہیں جو پوری تاریخ میں زندہ رہے گی تو ہمیں مجسمے اور نقشوں کے ذریعے مجسمہ سازی اور نقشوں کے ذریعہ اسے دستاویز فن پاروں کی شکل دینا ہو گی۔