.

غیرقانونی دراندازی میں معاونت ناقابل معافی جرم تصور ہوگا: سعودی وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مقامی افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی طور دراندازی میں مدد کرنے اور غیر مجاز طریقے سے مملکت میں داخل ہونے والے لوگوں کو پناہ دینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ دراندازی میں معاونت مملکت کے قانون اور نظام کے تحت بڑے جرائم میں شمار کیا جائے گا۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کردہ متعدد ٹویٹس میں سعودی وزیر داخلہ نے کہا کہ بارڈر سیکیورٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے، لوگوں کو دراندازی میں مدد کرنے اور انہیں پناہ دینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ ایسے عناصر کسی نرمی کے مستحق نہیں۔غیر مجاز دراندازی میں کسی بھی طرح کی معاونت مملکت کے نظام کے تحت بڑے جرائم میں سے ایک ہے۔ ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے ایسے عناصر کے ساتھ پورے عزم کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں 24 سے 30 جون 2021ء کے دوران غیرقانونی طور پرمقیم افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ فیلڈ کارروائیوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں سے غیرقانونی طور پر مقیم 19 ہزار 812 افراد کی نشاندہی کی گئی جن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ان میں سے 8 ہزار 570 افراد مملکت کے اقامہ نظام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ سرحدی خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد 10 ہزار 295 اور لیبرقوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد 947 بتائی گئی ہے۔