.

ایمنسٹی کا ایران سے جبری اعتراف کے تحت سزائے موت کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم’ایمنسٹی‘ نے کل ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں ایرانی حکام سے مطالبہ کیاہے کہ وہ جبری اعتراف کے ذریعے سزا یافتہ ایک ملزم کی سزا پرعمل درآمد روک دیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے جبری اعترافات کے بعد سزائے موت کے تحت قید ملزم بہاء الدین قاسم زادہ کی سزائے موت پرعمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ قاسم زادہ نے وہ جرم اس وقت کیا تھا جب اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔ اس کے بعد اسے اعتراف جرم کے لیے دوران حراست تشدد کرکےدباؤ ڈالا گیا۔

خیال رہے کہ قاسم زادہ کو آج اتوار کے روز ارومیہ جیل میں سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے۔

گذشتہ مئی کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے پھانسیوں کی ظالمانہ سزاؤں پرعمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق ایرانی جیلوں میں سزائے موت پانے والے زیادہ ترقیدی اقلیتی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایمنسٹی کی سال 2020ء کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں ایران میں 267 قیدیوں کی سزائے موت پرعمل درآمد کیا گیا۔ ان میں سے 60 قیدی سیستان بلوچستان، ،مغربی آذر بائیجان، مشرقی آذربائیجان اور کردستان سے تعلق رکھتے ہیں۔