.

سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی کا ہدف بین الاقوامی رُوٹس اور ٹرانزٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی کا ہدف بین الاقوامی ٹرانزٹ مسافر ہیں اور اس سے علاقائی مسابقت میں مملکت کی پوزیشن مضبوط ہو گی۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے آج اتوار کے روز بتائی۔

ایجنسی کے ذرائع کے مطابق نئی سعودی فضائی کمپنی بین الاقوامی رُوٹس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ٹرانزٹ فلائٹس فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔

نئی سعودی فضائی کمپنی کا صدر دفتر ریاض میں ہو گا۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اس کی تاسیس میں مدد کر سکتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے نئی قومی فضائی کمپنی تشکیل دینے کی منصوبہ بندی "نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹیجی" کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد مملکت کو ایک عالمی لاجسٹک مرکز بنانا اور مملکت کی معیشت کو متنوع بنانے میں مدد کرنا ہے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹیجی میں 250 سے زائد بین الاقوامی فضائی روٹس کا اضافہ اور فضائی کارگو کی گنجائش سالانہ 45 لاکھ ٹن تک پہنچانا شامل ہے۔

سعودی عرب اپنے دارالحکومت ریاض میں ایک نیا ہوائی اڈہ بنانے پر بھی غور کر رہا ہے۔ یہ نئی قومی فضائی کمپنی کا مرکز ہو گا۔ نئی فضائی کمپنی سیاحوں اور کاروباری شخصیات کے لیے مختص ہو گی جب کہ موجود قومی فضائی کمپنی "Saudia" جدہ میں اپنے اڈے سے حج اور عمرہ کی پروازیں چلائے گی۔ یہ بات امریکی نیوز ویب سائٹ بلومبرگ نے گذشتہ ہفتے بتائی۔