شام میں تاریخی قلعے کے تہ خانوں سے میزائلوں کی منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری کے مطابق مشرقی دیر الزور کے شہر المیادین میں واقع ایک تاریخی قلعے سے ایران نواز ملیشیاؤں نے اسلحہ،گولہ بارود اور میزائلوں کی بڑی تعداد دوسرے مقامات پر منتقل کرنا شروع کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف شام اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پرامریکی فوج نے وقفے وقفے سے حملے شروع کیے ہیں۔

انسانی حقوق گروپ کی رپورٹ کے مطابق المیادین شہر کے تاریخی قلعے الرحبہ کے تہ خانوں سے میزائلوں کی بھاری مقدار ٹرکوں پر لاد کر دوسرے مقامات پرمنتقل کی گئی ہے۔ یہ اسلحہ ایرانی حمایت یافتہ الحشد ملیشیا اور ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے مشترکہ طور پر دوسرے مقامات پرمنتقل کرنا شروع کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الحشد ملیشیا اور پاسداران انقلاب نے ٹرکوں کے ذریعے الرحبہ قلعے سے سخت سیکیورٹی میں ایرانی ساختہ میزائلوں کو تل البطین اور المیادین میں حاوے کے علاقے میں منتقل کیا ہے۔

خیال رہے کہ حاوی اور تل بطین کے علاقے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤ کا مرکز ہیں۔ یہاں پر ایرانی ملیشیاؤں نے میزائل لانچرنصب کیے ہیں جن کا رخ مشرقی فرات کےان علاقوں کی طرف رکھاگیا ہے جو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے زیرانتظام ہیں۔ یہاں قریب ہی العمر آئل فیلڈ بھی واقع ہے۔

خیال رہے کہ اسی علاقے میں کچھ عرصہ قبل سیرین ڈیموکریٹک فورسز اور اتحادی فوج کے ٹھکانوں کی سمت میں میزائل لانچر نصب کیے گئے تھے۔

ان میں سے نو میزایل لانچر مویشیوں کے باڑوں میں نصب کیے گئے تھے تاہم ان کے ہدف کی شناخت نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ اتوار کی شام مشرقی شام کے علاقے دیر الزور میں العمر آئل فیلڈ میں موجود امریکی فوجی اڈے پر توپخانے سے گولہ باری کی گئی تھی جس کے بعد امریکی فوج نے جوابی کارورائی میں اس علاقے پر بمباری کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں