.

نایاب کیڑوں کے کھوجی سعودی فوٹو گرافرسے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک فوٹو جرنلسٹ نے گذشتہ 15 سال سے ایک عجیب مشغلہ اپنا رکھا ہے۔ وہ مسلسل ڈیڑھ عشرےسے زمین پرموجود نایاب حشرات اور کیڑوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرتا اور ان کی تصاویر کو دستاویزی شکل دیتا ہے۔

کیڑے مکوڑوں کے کھوجی فوٹو گرافر عادل محمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نے گذشتہ پندرہ سال سے ایسے کیڑوں کی تلاش شروع کررکھی ہے جن آہستہ آہستہ اپنا وجود کھو رہے ہیں۔ کائنات کی اس ننھی منھی مخلوق کے بارے میں جان کاری اور ان کی تصاویر کے حصول کے لیے اس نے جدید ترین میکرو سسٹم استعمال کرنا شروع کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہا ہے۔

کلچر اینڈ آرٹس ایسوسی ایشن کے رکن فوٹو جرنلسٹ عادل محمد نے میں ہر طرح کے کیڑوں اور مختلف اقسام کےحشرات الارض کی تصویر کھنچوانے ، ان کی اقسام کی تلاش ، ان کے طرز عمل کی نگرانی اور ان کے اصل مقام جاننے کا شوق رکھتا ہوں۔ دوسروں تک ان کیڑوں کے بارے میں علم پھیلانا اور کیڑوں کے لیے ایک بڑی مقدار میں معلومات فراہم کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس مقصد کے لیے میں اب تک فیفا پہاڑوں ، الباحہ ، جدہ ، طائف ، جازان ، عسیر ، السروات کی پہاڑیوں اور دیگر مقامات کا سفر کرچکا ہوں۔

اس نے مزید میں دلدل کے کناروں کے درمیان ، کھیتوں کے اندر اور جنگلات کے مابین گھومتا پھرتا رہا تاکہ نایاب قسم کے کیڑوں کی تصویر لے سکوں۔ ان کیڑوں کی تلاش میں درختوں کے پتوں ، پھولوں اور گلاب کی تلاش کی۔ ان میں ڈریگن فلز ، مانٹیز اور کولیوپٹرا، تتلیوں ، سبز ٹڈی ، سرخ اور کالی ٹڈی اور دورے کیڑوں کو قریب سے دیکھا۔