.

الریاض معاہدہ بحران سےنکلنے کے لیے تمام فریقین کے پاس مناسب راستہ ہے: یمنی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں یمن کے سفیر عزالدین سعید الاصبحی نے کہا ہے کہ الریاض معاہدے کا نفاذ یمن میں جاری بحران سےنکلنے کے لیے تمام فریقین کے پاس بہترین اور مناسب راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الریاض معاہدے کا نفاذ ذمہ جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

الاصبحی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے یمنی قوتوں میں اتحاد اور یکجہتی، یمن کی آئینی حکومت کی معاونت، امن اور استحکام اور ملک میں جاری خون خرابے کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی مساعی کا خیر مقدم کیا۔

عزالدین الاصبح
عزالدین الاصبح

ایک سوال کے جواب میں یمنی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے الریاض معاہدے پر عمل درآمد پر زور واضح کرتا ہے کہ مملکت کو یمن میں جاری خطرات کا بہ خوبی ادراک ہے۔ عدن اور یمن کے دوسرے شہروں پر آئینی حکومت کا کنٹرول کھو دینے سے سب کے لیے ایک نیا المیہ رونما ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت کی طرف سے الریاض معاہدے کو قبول کرنا وطن کے تئیں ذمہ داری کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ الریاض معاہدے کا اعلان حکومت کی طرف سے کیا گیا اور حکومت نے اس کے نفاذ کے لیے ہر وقت سنجیدگی سےبات کی ہے۔

عزالدین الاصبحٰ نے زور دے کر کہا کہ حکومت کے ممبران کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ جب وہ حکومت کا حصہ بنے تو وہ اپنے کام کی کارکردگی میں اپنے متعصبانہ رویے کی نمائندگی نہیں کریں گے بلکہ وہ یمنی عوام کے نمائندے بن کر کام کریں گے۔ ان کے کام کی ترجیحات حوثی ملیشیا کی بغاوت کو کچلنا اور ملک کو امن اور استحکام کی منزل سے ہم کنار کرنا ہے۔