.

بادلوں میں گھرا پُر فضا سعودی شہر’میسان‘ سیاحوں کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موسم گرما میں شدید گرمی کے ایام میں سعودی عرب کےجنوب مغرب میں واقع میسان شہر کو اپنے معتدل موسم کی بدولت جنت نظیر قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے اسی موسم کی بدولت سے ’بادلوں کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر ہونے والی بارشیں، گھنے بادل، دھند اور موسم ایسا طلسماتی قدرتی ماحول پیدا کرتے ہیں جن سے سیاح اس طرف کھچے چلے آتے ہیں۔

میسان کی تاریخ اور جغرافیا کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ الحارثی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میسان بکر گونری کا حصہ ہے جو شمال میں طائف اور جنوب میں الباحہ جیسے سیاحتی شہروں کے سنگھم پر واقع ہے۔ اس شہر کی سطح سمندر سے بلندی 2600 میٹر ہے۔ یہاں بلند پہاڑوں اور نشیبی وادیوں کےدرمیان کئی اہم مقامات ہیں۔

ڈاکٹر الحارثی کا کہنا تھا کہ مسیان شہر کے اہم پہاڑوں میں جبل ابراہیم شامل ہے۔ اسے ’بثرہ کا پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حجاز کے بڑے پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ جبل اعذب، جبل عتمہ، جبل بیضان، وادی بوا، وادی صور، وادی رحمات، وادی صرار، وادی سایلہ اور وادی عردہ میسان کے خوبصورت مقامات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میسان میں کئی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات بھی موجود ہیں۔ ان میں تاریخی داما ڈیم، تاریخی مسجد المجاردہ، حجاج کرام کا تاریخی راستہ، حلیمہ سعدیہ منزل، تاریخی مسجد الشعاعیب اور مسجد الحباب ذوالقبلتین زیادہ مشہور ہیں۔

الحارثی نے بتایا کہ میسان کا علاقہ سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔ مگر یہاں پر موجود اہم سیاحتی مقامات میں الحدب پارک، شہدان پارک، الموارید، الاشرق، البصب، السحن جیسے اہم مقامات ہیں۔ سردیوں میں یہاں پر بعض اوقات درجہ حرارت منفی پانچ تک گر جاتا ہے جب کہ گرمیوں میں یہاں کا موسم معتدل ہوتا ہے۔

میسان شہر صرف سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ یہ ایک زرعی علاقہ ہے جہاں بھی کئی اقسام کےاناج اور پھل کاشت کیے جاتےہیں۔ اعلیٰ معیار کے پھول،انگور، انجیر، کیلا،خوبانی، آڑو، ٹماٹر، کھیرا، گندم،دالیں، جو مکئی اور کئی دوسری فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔