.
یمن اور حوثی

یمنی حکومت کے لیے سعودی حمایت کا اعادہ، شہریوں کو نشانہ بنانے پر حوثیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے یمن کی آئینی حکومت کی حمایت اور حوثی باغیوں کی طرف سے شہریوں کو حملوں کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے یمن کے موجودہ بحران کے سیاسی حل کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

منگل کے روز سعودی کابینہ کے ہونے والے اجلاس میں کہا گیا کہ مملکت خطے کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک رکھنےسے متعلق اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔

کابینہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا حصول اور اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عالمی برادری کےساتھ ہرممکن تعاون جاری رکھے گی۔

سعودی وزارت کونسل کا اجلاس خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ انہوں نے اس کانفرنس میں ورچوئل شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں وژن 2030ء کے اہداف کے حصول کے لیے ہونے والی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے نئی ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک اسٹریٹیجی کے قیام کی حمایت کی اور اسے ملک کی ترقی اور تین براعظموں کے درمیان مملکت کو ایک بین الاقوامی لاجسٹک مرکز بنانے کی کوشش کو ملک اور پورے خطے کی ترقی کا نیا منصوبہ قرار دیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

سعودی عرب کے قائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی نے سرکاری نیوز ایجنسی ’ایس پی اے‘ کو بتایا کہ اجلاس میں یمن کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کابینہ نے یمن کی آئینی حکومت کی حمایت جاری رکھنے اور یمن کے بحران کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کےمطابق امن عمل کوآگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں وسیع پیمانے پر اسلحہ کے حصول، اس کی تیاری اور اس کے پھیلاؤ اور استعمال کو روکنے کےلیے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔