.

عراق میں امریکی فوج کے زیراستعمال عین الاسد ائیربیس پر14 راکٹوں سے حملہ،دوفوجی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد بیس پر بدھ کے روز 14 راکٹ داغے گئے ہیں جس کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔عراق کا یہ فوجی اڈا امریکی اور بین الاقوامی افواج کے زیراستعمال ہے۔

عراق میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل وین ماروٹو نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’’آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر12 بج کر35 منٹ پر عین الاسد ائیربیس پر 14راکٹ گرے ہیں۔حملے کے وقت حفاظتی دفاعی اقدامات کو فعال کردیا گیا تھا۔ہنوز اس حملے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں اوراس سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ کیا جارہا ہے۔‘‘

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں اس راکٹ حملے میں دوفوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی مزید تفصیل دستیاب ہونے پر جاری کی جائے گی۔

فوری طورپر کسی گروپ نے اس راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔الانبار میں اس راکٹ باری سے چندے قبل عراق کے شمالی شہر اربیل کے ہوائی اڈے کو بارود سے لدے ایک ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔کرد سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہوائی اڈے پر واقع امریکی بیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

امریکا ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں پر اس طرح کے راکٹ اور ڈرون حملوں کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے۔عراق میں ایران کی حامی ملیشیاؤں کے جنگجو آئے دن امریکا کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر راکٹ داغتے رہتے ہیں۔حال ہی میں انھوں نے بارود سے لدے ڈرونز سے بھی حملے شروع کردیے ہیں۔