.

اسرائیل رواں سال اردن کو اضافی پانی فروخت کرے گا:یائرلاپیڈ

اردن کی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سالانہ برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اس سال اردن کو دُگنا پانی مہیا کرے گا اور اس کی مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں کے لیے برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کرے گا۔

اسرائیل اور اردن کے وزرائے خارجہ کے درمیان عمان میں ملاقات میں پانی کی مقدار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزیرخارجہ یائرلاپیڈ نے کہا ہے کہ اس سال کے دوران میں اردن کو پانچ کروڑ مکعب میٹر پانی فروخت کیا جائے گا۔

یائرلاپیڈ نے اردنی ہم منصب ایمن الصفدی سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’’دونوں ملکوں نے غربِ اردن کے لیے اردن کی برآمدات سالانہ 70 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا ہے۔‘‘اس وقت اردن 16 کروڑ ڈالر مالیت کی اشیاء مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں کے لیے بھیج رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ’’اردن ایک اہم ہمسایہ اور شراکت دار ہے۔ہم دونوں ملکوں کے مفاد میں اقتصادی تعاون کا دائرہ وسیع کریں گے۔‘‘

اسرائیل کے ایک عہدہ دار نے بتایا ہے کہ پانی کی اضافی مقدار سے اردن کوسپلائی دُگنا ہوجائے گی۔مئی 2021ء سے مئی 2022ء تک اردن کو قریباً پانچ کروڑ مکعب میٹر پانی مہیا کیا جائے گا جبکہ اتنی ہی مقدار میں پانی اس کو پہلے ہی مہیا یا فروخت کیا جاچکا ہے۔

اردن کے ایک عہدے دار کے مطابق اسرائیل 1994ء میں طے شدہ امن معاہدے کے تحت ہرسال ہاشمی مملکت کو تین کروڑ مکعب میٹر پانی مہیا کرتا ہے۔