.
سعودی معیشت

خطے میں ایپل کمپنی کی پہلی اکیڈمی کے لیے سعودی دارالحکومت کا انتخاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشہور امریکی کمپنی "ایپل" نے مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں اپنے معروف ادارے "Apple Developer Academy" کے صدر دفتر کے لیے ریاض کا انتخاب کیا ہے۔ یہ مذکورہ ریجن میں اکیڈمی کی پہلی شاخ ہو گی۔ پہلا مرحلہ خواتین پروگرامرز اور ڈیولپرز کے لیے مختص ہو گا۔ اس کا مقصد ویژن 2030ء کی روشنی میں خواتین کو با اختیار بنانے اور ضخیم سماجی اصلاحات کرنے کے سلسلے میں کوششوں کو سپورٹ کرنا ہے۔

اس خصوصی شراکت داری میں ایپل گلوبل کمپنی اور "سعودی فیڈریشن فار سائبر سیکورٹی، پروگرامنگ اینڈ ڈرونز" کے علاوہ پرنسس نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی شامل ہے۔

یونیورسٹی کی سربراہ ڈاکٹر ایناس بنت سلیمان العیسی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ "ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ پرنسس نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی جو دنیا میں خواتین کی سب سے بڑی جامعہ شمار ہوتی ہے یہاں خطے کی پہلی Apple Developer Academy کا آغاز ہو رہا ہے"۔

اس حوالے سے "سعودی فیڈریشن فار سائبر سیکورٹی، پروگرامنگ اینڈ ڈرونز" کے مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین اور طویق اکیڈمی کی مجلس عاملہ کے سربراہ فیصل الخمیسی نے ایپل کمپنی کے ساتھ اس امتیازی اور اہم شراکت داری پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔

الخمیسی کے مطابق ایپل اکیڈمی کی شاخ کاروباری خواتین ، ڈیولپرز اور ڈیزائنرز کو تربیت اور لوازمات فراہم کرنے پر کام کرے گی تا کہ نئی کمپنیاں قائم کی جا سکیں اور iOSکی اپیلی کیشنز کے میدان میں روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

ادھر ٹیلی کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے سعودی وزیر انجینئر عبداللہ السواحہ نے مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے ریجن میں ڈیولپر اکیڈمی کے قیام کے لیے مملکت کا انتخاب کرنے پر ایپل کمپنی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "درحقیقت یہ ہماری بیٹیوں کے لیے ڈیجیٹل ذہانت اور مہارتوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہے"۔

واضح رہے کہ Apple Developer Academy کی امریکا، برازیل، اطالیہ، جنوبی کوریا اور انڈونیشیا میں متعدد شاخیں ہیں۔ ان شاخوں نے مجموعی طور پر دنیا بھر میں اپنے فارغ التحصیل طلبہ کے ذریعے 160 سے زیادہ ابھرتی کمپنیوں کے ایقام اور 1500 سے زیادہ ایپلی کیشنز بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔