.

سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے شامی فوجی افسر سمیت 4 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق درعا شہر میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے شامی فوج کے ایک افسر سمیت کم سے کم چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ درعا کے مغرب میں نافعہ ۔ عین ذکر کو ملانے والی شاہراہ پر چلنے والے ایک فوجی قافلے کو بم سے نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں لیفٹیننٹ کے عہدے کا ایک افسر اور تین دیگر اہلکار ہلاک جب کہ دو زخمی ہو گئے۔

شامی رصدگاہ کے مطابق شامی فوج کے اہلکار چھان بین کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ زخمیوں کو وہاں سے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ فوج نے چھان بین کے لیے عین ذکر گاؤں کا گھیراوٗ کرلیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق جون 2019ء سے درعا اور جنوبی شام کے علاقوں میں سڑکوں کے کناروں پر نصب بموں اور بارودی سرنگوں کے حملوں کے 1137 واقعات رپورٹ ہو چکےہیں جن میں دسیوں افراد مارے گئے۔

ان حملوں میں مجموعی طور پر 778 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں 222 سولین، 13 خواتین، 22 بچے اور شامی فوج کے 359 اہلکار شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں اجرتی قاتل گروپوں کے 138 اور حزب اللہ ملیشیا کے 27 جنگجو شامل تھے، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندرپار کارروائیوں کی نگران القدس بریگیڈ کے 32 اہلکار شامل ہیں۔