.

شام کی حامی فلسطینی گوریلا تنظیم کے بانی احمد جبریل دمشق میں چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی حامی فلسطینی گوریلا تنظیم پاپولرفرنٹ کے بانی احمد جبریل بدھ کے روز دمشق میں وفات پا گئے ہیں۔ان کی عمر83 سال تھی۔

احمد جبریل نے 53 سال قبل اسرائیل کے خلاف گوریلا جدوجہد کے لیے پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین جنرل کمان (پی ایف ایل پی جی سی ) کے نام سے تنظیم قائم کی رکھی تھی۔اس تنظیم نے 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں اسرائیل کے خلاف مزاحمتی جنگ میں دوسرے گوریلا گروپوں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا تھا۔پاپولر فرنٹ نے شام میں سنہ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں صدر بشارالاسد کی حکومت کی کھل کر حمایت کی ہے۔

امریکا نے پی ایف ایل پی جی سی کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا تھا۔اس تنظیم نے اپنے رہنما کی وفات پر ایک تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ’’مرحوم نے اپنی زندگی فلسطین اور پاپولرمحاذ کی خدمت کے لیے وقف کررکھی تھی اور وہ تادم مرگ اس مشن پر ڈٹے رہے تھے۔‘‘

احمد جبریل نے فلسطینی قوم پرست رہ نما جارج حباش کی سرکردگی میں قائم پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین (پی ایف ایل پی) سے علاحدگی کے بعد 1968ء میں پی ایف ایل پی جی سی کے نام سے اپنے دھڑے کی بنیاد رکھی تھی۔

اس گوریلا تنظیم نے اپنے قیام کے ابتدائی برسوں کے دوران میں مشرق اوسط اور یورپ میں دسیوں حملے کیے تھے،مسافر طیاروں میں بم دھماکے کیے تھے،طیاروں کو ہائی جیک کرنے کے بعد بموں سے اڑایا تھا۔

اسرائیل کے بین الاقوامی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی کے مطابق اس گروپوں کے حملوں میں 1970ءمیں فضا میں سوئس ایئرلائنر کے طیارے میں بم دھماکا بھی شامل ہے۔اس واقعہ میں طیارے میں سوار تمام 47 مسافر اور عملہ کے ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔1972 میں اس نے اسرائیل کی فضائی کمپنی ایل آل کے ایک طیارے کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔اس حملے کے لیے کھلونا ریکارڈ پلیئرکا استعمال کیا گیا تھا۔

پاپولرفرنٹ نے اسرائیل کے خلاف حملوں کے لیے پہلے پہل خودکش اسکواڈ کو استعمال کیا تھا۔وہ خودکش حملوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے فلسطینی گروپوں میں سے ایک تھا۔ 1974ء میں اس کے تین ارکان نے اسرائیل کے شمالی شہر کیریات شیمونا پر حملہ کیا تھا۔اس میں 18 اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو گئے تھے۔بعد میں اسرائیلی فوجیوں نے ان تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔نومبر1987 میں اس نے لبنان سے سرحد پار معلق گلائڈرز کے ذریعے ایک خودکش حملے کے لیے اپنے دو گوریلوں کا استعمال کیاتھا۔اس حملے میں چھے اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

احمد جبریل نے اسرائیل کے ساتھ اوسلوامن معاہدوں کی مخالفت کی تھی۔وہ تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او)کی قیادت کے طریقہ کار پر مرحوم فلسطینی رہنما یاسرعرفات اور ان کے جانشین محمود عباس سے متصادم رہے تھے۔

انھوں نے 1985ء میں اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا ایک منفرد سمجھوتاطے کیا تھا۔اس پرانھیں فلسطینیوں میں بے پایاں شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اس سمجھوتے کے تحت تین اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کےبدلے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔ان میں طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بھی شامل تھے۔ان رہائی پانے والوں میں حماس کے شریک بانی شیخ احمد یاسین بھی تھے۔

احمد جبریل نے کئی دہائیوں تک شام کی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔اس پر انھیں بعض فلسطینی دھڑوں کی جانب سے کڑی تنقیدکانشانہ بنایا گیا ہے۔گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں شام میں جاری خانہ جنگی میں ان کے گروپ نے صدر بشارالاسد کی فوج کی بھرپور معاونت کی ہے۔پی ایف ایل پی جی سی کے جنگجوؤں نے شامی فوجیوں کے شانہ بشانہ دمشق کے نواح میں واقع یرموک کیمپ پر دوبارہ قبضے کے لیے مخالف گروپوں سے کئی لڑائیاں لڑی ہیں۔شام میں یرموک کیمپ میں فلسطینی سب سے زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔

احمد جبریل کا ایک بیٹا 2002ءمیں لبنان میں ایک کار بم دھماکے میں ماراگیا تھا۔ وہ خود 1990ء کے عشرے کے اوائل میں لبنان سے شام منتقل ہوگئے تھے۔تاہم ان کے گروپ کے لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے قریبی تعلقات استوار رہے ہیں۔حزب اللہ نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔