.

احمدی نژاد کا ایرانی حکومت پر افغان طالبان کی معاونت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں افغانستان کے بارے میں ایک کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے طالبان کے لیے اپنے ملک کی حمایت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی مزید تیز ہو جائے گی۔

احمدی نژاد نے افغانستان کے معاملات میں دوسرے ممالک کی مداخلت پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے لیے ایرانی حمایت "ایرانی عوام کی ساکھ کی توہین" ہے۔

انہوں نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا کہ افغان عوام بڑی طاقتوں اور خطے کے ممالک کی "شیطانی پالیسیوں" کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کا اشارہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی طرف تھا۔

تحریک طالبان کو ایران کی طرف سے اسلحہ بھیجنے کے بارے میں ایران پر لگائے جانے والے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے استفسار کیا کہ ہر شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ افغان عوام سے ہمدردی رکھتا ہے۔ اگر آپ واقعتا ہمدرد ہیں تو آپ اسلحہ کیوں بھیجتے ہیں؟ آپ تنازعات کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اسلحہ دینے والے افغانستان میں یہی وسائل ترقی اور شہریوں کی بہبود ، فیکٹریوں کی تعمیر ، صنعتوں کے قیام ، زراعت کی بحالی ، اور لوگوں کو اپنے لیے فیصلہ کرنے پرکیوں صرف نہیں کرتے۔

سابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ "افغان عوام کے خلاف سب سے بڑی نا انصافی ان کے حقوق کی پامالی نہیں ہے۔ ہر شخص مداخلت کرتا ہے اور بات کرتا ہے اور ہر کوئی افغان عوام کی بجائے اپنی مرضی کا فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔"