.

شاہ عبدالعزیز عالمی ثقافتی مرکز ’اثرا‘20 فلمیں تیار کرنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاہ عبد العزیز سنٹر برائے عالمی ثقافت "اثرا" نے فلم سازی کے میدان میں اپنے ثقافتی ، تخلیقی اور علمی کردار کو مستحکم کرنا شروع کر دیا ہے۔ ’اثرا‘ نے سعودی سینما میں اپنی شرکت بڑھاتے ہوئے 20 سے زاید فیچر فلمیں تیار کی ہیں۔ یہ فلمیں سعودی عرب میں ہونے والے فلمی میلوں میں بھی پیش کی گئیں جہاں انہیں غیرمعمولی طور پر پسند کیا گیا۔ فلم سپورٹ پروگرام کےتحت اثرا کے زیراہتمام تیار ہونے والی فلموں میں 15 سے زیادہ مقامی ، علاقائی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ متعدد تیار شدہ فلموں کو مقامی اور بین الاقوامی سنیما اسکرینوں پر دکھائے جانے کے حقوق بھی حاصل کیے ہیں۔

سوسائٹی فار کلچر اینڈ آرٹس کے ذریعہ مرکز کے تعاون سے منعقد کیے جانے والے سعودی فلمی میلے میں ’اثرا‘ کا کردار فلمسازوں کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہے۔اس کے علاوہ شوبز میں کام کرنے والوں کو پیشہ وارانہ تربیت اور ترقیاتی کورس بھی مہیا کرتا ہے۔ اثراکی طرف سے جن فلمی شعبوں میں تربیت فراہم کی جاتی ہے، ان میں خاص طورپر فلموں میں ساؤنڈ ٹریک ، فلموں میں ساؤنڈ پروسیسنگ ، فلموں کی تیاری اور فلموں میں بصری اثرات شامل ہیں۔

مرکز نے دستاویزی فلموں کی تیاری کے علاوہ سنیماٹوگرافی سمیت ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا جس میں اثرا کو عالمی شراکت داروں ، تربیتی ایجنسیوں اور انسٹی ٹیوٹ کے ایک گروپ کی طرف سے بھی تعاون فراہم کیا گیا۔ تعاون کرنے والے ممالک میں برطانوی فلم انسٹی ٹیوٹ ’بی ایف آئی‘ ، تخلیقی صلاحیتوں کی تائید اور ترقی کے لیے اپنے شوق کو فروغ دینے اور فلم سازی کے فن میں اپنی صلاحیتوں کو جلا بخشنے اور سعودی سینما کو نئی فلمیں فراہم کرنے کے لیے اثرا نے اہم کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔

’اثرا‘ نے بہت سی فلمیں تیار کیں فلمی پلیٹ فارمز پر بے حد مقبول ہوئیں۔ ان میں "زیرو ڈسٹینس" جو حال ہی میں سعودی ایئر لائنز پر دکھائی گئی تھی۔اس کے علاوہ عالمی سطح پر مووی کے پلیٹ فارم ’نیٹ فلکس‘ پربھی اس کو دکھایا گیا۔ اس فلم کے ہدایت کار عبد العزیز الشلاحی ہیں۔ اس میں فوٹو گرافر ماجد کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جو تیسری ہزاروی کے شروع میں ریاض شہر میں رہتا تھا۔اسے عجیب و غریب واقعات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے ایک تصویر ملی جس میں ایک اس شخص نے اپنے اپارٹمنٹ کے فرش پر اپنی گاڑی میں پستول کے ساتھ ایک نارکارہ گولی پڑی پائی۔ وہ اپنے قریبی لوگوں پر اعتماد کھو جانے کے بعد شکوک و شبہات اور خوفناک الجھنوں کا شکار ہوگیا۔