.
سعودی معیشت

’آئی ایم ایف‘ نے سعودی معیشت کے حوالے سے خوش خبری سنا دی

غیر تیل کے شعبوں کے ذریعے مملکت کی معاشی شرح نمو میں 2.4 % اضافہ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ’آئی ایم ایف‘ نے جمعرات کو کہا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت کوڈ 19 وبا کے اثرات سے نکل رہی ہے۔ آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ اس سال مملکت کی غیر تیل کی معیشت میں 4.3 فیصد ترقی ہوگی جس سے مجموعی طور پرقومی پیداوار میں 2.4 فیصد اضافہ ہوگا .

آئی ایم ایف نے ایک بیان میں مزید کہا ہےکہ اوپیک + ممالک کے ذریعہ طے شدہ نقشہ راہ کے مطابق تیل کی حقیقی پیداوار میں 0.4 فیصد کی کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ مملکت میں (پبلک انویسٹمنٹ فنڈ) میں ہونے والی سرمایہ کاری سے سرکاری اخراجات کے دباؤ سے نمو پر منفی اثر پڑیں گے۔ خودمختار فنڈ کی سرمایہ کاری ملکی معاشی ترقی کے پروگرام (وژن 2030) کا مرکزی حصہ ہے جس کا مقصد تیل پر معیشت کے انحصار کو کم کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کے بڑھتے ہوئے کردار اور معیشت میں عوامی نجی شراکت داری کو دیکھتے ہوئے فنڈ کے ایگزیکٹوز نے عوامی مالیات کی نگرانی اور خودمختار اثاثوں اور ذمہ داریوں کے انتظام کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کے قیام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

ڈائریکٹرز نے اخراجات کے انتظام اور عوامی خریداری کو مزید مستحکم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

انتظامی عہدیداروں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سعودی ریال میں زرمبادلہ کی شرح کوامریکی ڈالر کے ساتھ شامل کرنے سے موجودہ معاشی ڈھانچے کے پیش نظر معیشت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مکمل اتفاق رائے کے باوجود بڑی تعداد میں ڈائریکٹرز نے حکام سے درمیانی مدت میں اس نظام پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ معاشی سرگرمی کو تنوع بخش بنانے کے منصوبوں کی روشنی میں یہ کتنا مناسب رہتا ہے۔

معیشت کی موجودہ کارکردگی کے بارے میں بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں اصلاحات مزدوروں کے لیے لیبر مارکیٹ کی مسابقت اور کشش میں اضافہ کرے گی۔ اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگوں کو راغب کرے گی۔ سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ہونے والی اصلاحات کو بھی ملکی معیشت کے کیے اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔