.

تونس کے لیے سعودی امداد لے کر ابتدائی پروازیں روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے تونس کے لیے طبی ساز و سامان اور لوازمات کی حامل پہلی فضائی پرواز آج بدھ کے روز روانہ ہو گئی۔ واضح رہے کہ تونس کے صدر قیس سعید کی درخواست پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دونوں ملکوں کے بیچ فضائی پُل قائم کر کے امدادی سامان کی ترسیل کی ہدایات دی تھیں۔

اس سلسلے میں شاہ سلمان امدادی مرکز نے آج ابتدائی پرواز کا انتظام کیا تا کہ تونس میں کرونا کی روک تھام میں حصہ لیا جا سکے۔

آج صبح دو طیاروں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تونس کے لیے اڑان بھری۔ طیاروں میں طبی مشینیں، ساز و سامان، لوازمات اور احتیاطی و حفاظتی اشیاء بھیجی گئیں۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ امدادی سلسلہ دونوں ملکوں کی قیادت کو مربوط کرنے والے برادرانہ مضبوط تعلقات کی گہرائی کو باور کراتا ہے۔

واضح رہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پیر کے روز ہدایت جاری کی تھی کہ طبی اور حفاظتی ساز و سامان اور لوازمات کے ذریعے تونس کے لیے فوری سپورٹ ارسال کی جائے۔ اس کا مقصد تونس میں کرونا کی روک تھام کے لیے اقدامات کو مضبوط بنانا ہے۔ یاد رہے کہ تونس کے صدر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں اس امداد کی درخواست کی تھی۔

سعودی شاہی دیوان کے مشیر اور شاہ سلمان امدادی مرکز کے نگرانِ اعلی ڈاکٹر عبدالله بن عبدالعزيز الربيعہ کے مطابق ارسال کی جانے والی امداد کرونا وائرس کی ویکسی نیشن کی 10 لاکھ خوراکوں ، 190 وینٹی لیٹروں، 319 آکسیجن کانسنٹریٹروں، 150 طبی بستروں اور 50 الٹرا ساؤنڈ مانیٹروں پر مشتمل ہے۔

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے سبب تونس کو اس وقت صحت کے لحاظ سے نہایت دشوار صورت حال درپیش ہے۔ بالخصوص کرونا کی نئی صورتیں پھیلنے کے بعد متاثرین کی ریکارڈ تعداد سامنے آ رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ تونس کی مدد کی ضرورت ہے۔ تونس میں کرونا سے ہونے والی اموات عرب اور شمالی افریقا کے علاقے میں سب سے زیادہ ہو چکی ہیں۔