.

ثمودی تحریروں کا خزانہ کہلانے والا طلسماتی سعودی شہر حسمیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال مغربی شہر تبوک کے مغرب میں واقع ریلتے صحرا کے بیچ قدرتی پہاڑوں کا ایک ایسا سلسلہ واقع ہےجو اپنے اندرکئی قدیم تہذیبوں کے آثار اور یادوں کومحفوظ کیے ہوئے ہے۔

فوٹو گرافر محمد الشریف نے ان پہاڑوں کے درمیان گھرے حسمیٰ کے علاقےپر روشنی ڈالی ہے۔ اس نے اپنے کیمرے کی مدد سے پہاڑ کی مغربی سمت کی ساخت اور اس کی سرخ ریت کو دکھایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پہاڑ صحرا ’حمسیٰ‘ میں جا بہ جا پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ تاریخی تہذیبوں کے آثار اور یادیں وابستہ ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کسی زمانے میں تجارتی قافلے گذرتے اور یہاں پر قیام کرتے۔ان پہاڑوں پرنقوش اور پرانی عبارتیں موجود ہیں۔ ان پہاڑوں پرموجود تحریریں دیگر قدیم تہذیبوں کے ساتھ ساتھ وہاں پر ثمودی تہذیب کے نقوش بھی بہ کثرت ملتے ہیں۔

ماہرین آثار قدیم ومورخین حسمٰی کو ثمودی دور کے نقوش کا دیوان قرار دیتے ہیں۔ ان میں بعض عبارتیں اسلام سے قبل اور بعض 2600 سال قبل ثمود کے زمانے کی بتائی جاتی ہیں۔

ان پتھروں پر موجود عبارتیں قدیم عربی رسم الخط کی بھی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کوفی رسم الخط میں تحریر کی گئی ہیں۔

کئی مورخین نے اپنی کتب میں حسمیٰ پہاڑوں سے جڑی قدیم تہذیبوں کے آثار کا تذکرہ کیا ہے۔