.

ادلب میں شامی فوج کی گولہ باری؛تین بچّوں سمیت 9 شہری مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے حزب اختلاف کے مضبوط گڑھ مغربی صوبہ ادلب میں جمعرات کو ایک مرتبہ پھرتوپ خانے سے گولہ باری کی ہے جس سے تین بچّوں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ ادلب کے شمال میں واقع قصبے فوآ میں گولہ باری سے ایک بچے سمیت چھے افراد مارے گئے ہیں۔فوآ سے 35 کلومیٹر جنوب میں واقع گاؤں ابلین میں شامی فوج کے ایک اور حملے میں دو بچوں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جولائی کے اوائل میں بھی شامی فوج نے صوبہ ادلب کے جنوب میں واقع علاقہ جبل الزاویہ میں متعدد دیہات پر گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں چھے بچوں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تب ابلین ہی میں گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد مارے گئے تھے۔ان میں میاں بیوی اور ان کے تین بچے تھے۔ایک اور گاؤں بالیون میں گولہ باری سے دو بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

ادلب میں مارچ 2020ء سے جنگ بندی جاری ہے لیکن اس کے باوجود شامی فوج نے حزب اختلاف کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں،اس کے جواب میں شامی جنگجو بھی جوابی حملے کرتے رہتے ہیں لیکن ان دونوں کے حملوں کا نشانہ بالعموم عام شہری ہی بنتے ہیں۔

شامی حکومت کے پشتیبان روس اور حزب اختلاف کے حامی ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں طے شدہ اس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

شامی رصدگاہ کے مطابق گذشتہ ہفتوں کے دوران میں روس کے لڑاکا طیاروں نے بھی ادلب کے جنوبی علاقوں میں بمباری کی ہے اوران فضائی حملوں کے ساتھ شامی فوج نے گولہ باری کی ہے۔

جنگ زدہ ملک میں 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک قریباً پانچ لاکھ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں ایک تہائی عام شہری تھے۔