.

عراق کے بااثرشیعہ لیڈرمقتدیٰ الصدرکا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مقبول اور بااثر شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا ہے اور وہ حکومت کی حمایت سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔

مقتدیٰ الصدرعراق میں ایران اور امریکا دونوں کی مداخلت کے خلاف ہیں۔ وہ ملک کی سب سے بااثرسیاسی ومذہبی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ان کے زیرقیادت سیاسی بلاک نے 2018ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں اور ان کی تحریک نے پارلیمان کی 349 نشستوں میں سے 54 نشستیں حاصل کی تھیں۔

انھوں نے جمعرات کو ایک نشری تقریر میں کہا:’’میں آپ کو مطلع کرنا چاہتاہوں کہ میں انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا۔قوم ان سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔‘‘انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’وہ اس حکومت کی حمایت سے بھی دستبردار ہورہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’عراق کو علاقائی شیطانی اسکیم کا معمول بنا دیا گیا ہے تاکہ اس ملک کو ہزیمت سے دوچار کیا جاسکے اور گھٹنوں کے بل گرایا جاسکے۔‘‘

شعلہ بیان شیعہ لیڈرنے خبردارکیا ہے کہ’’آنکھیں کھولیے قبل اس سے کہ عراق کو بھی شام ، افغانستان اور دوسری ریاستوں ایسے حالات سے دوچار ہونا پڑے جو اس وقت اندرونی ،علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں کا شکار ہوچکے ہیں۔‘‘

مقتدیٰ الصدر کے ایک قریبی ذریعے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ انھوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپوں کی مخالفانہ مہم کے ردعمل میں کیا ہے۔اس معاندانہ مہم کے ذریعے صدری تحریک کی شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس ذریعے کے مطابق مقتدیٰ الصدر نے ایک حالیہ اجلاس میں اپنے پیروکاروں سے ایران کے حمایت یافتہ مخالف شیعہ گروپوں کے بارے میں گفتگو کی تھی اوران کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہاتھا کہ ’’ملک میں ایسے دھڑے موجود ہیں جوصدریوں کو آیندہ حکومت بنانے سے روکنے کے لیے عراق میں آگ اورخون کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق عراق میں آیندہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں صدری امیدوار سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔عراقی سیاست میں صدری تحریک کا اس طرح بڑھتا ہوا اثرورسوخ امریکا اور ایران دونوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

مقتدیٰ الصدران دونوں ملکوں پر عراق کے داخلی امور میں مداخلت کے الزامات عاید کرتے ہیں۔وہ عراق میں موجود امریکا کے باقی ڈھائی ہزار فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کرچکے ہیں اور ایران پر یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ اس کو عراق میں گرفت مضبوط نہیں کرنے دیں گے۔

انھوں نے ایسے وقت میں پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہ لینے کااعلان کیا ہے جب وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی حکومت کو جنوبی شہرالناصریہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کے اسپتال میں آتش زدگی کے واقعے پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔اسی ہفتے اس واقعے میں کم سے کم 90 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے ہیں۔اس سے پہلے بغدادمیں اپریل میں آتش زدگی کے ایسے ہی واقعے میں 82 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔