.

فائزہ ہاشمی کا نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی کو’سنہری مشورہ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحب زادی فائزہ ہاشمی کی طرف سے حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے نو منتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ابرائیم رئیسی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 72 اعشاریہ 3 فی صد یعنی کل ڈالے گئے 18 ملین ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ابراہیم رئیسی اپنے حریفوں کے مقابلے میں غیرمعمولی برتری کے ساتھ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

ابراہیم رئیسی

تاہم فائزہ رفسنجانی کا کہنا ہے کہ ابراہیم رئیسی کو اپنی کامیابی پر اترانے کی قطعا ضرورت نہیں کیونکہ انہیں صرف 30 فی صد ووٹ ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1979ء کے بعد ہونے والے تمام صدارتی انتخابات میں حالیہ الیکشن کے دوران ٹرن آؤٹ 48 اعشاریہ 7 فی صد رہا جو کہ اب تک کا کم ترین ٹرن آؤٹ ہے۔

فارسی اخبار’ارمان ملی‘ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں فائزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ میں صدارتی انتخابات کو ایک ریفرنڈم قرار دیتی ہوں۔ یہ انتخابات کئی حوالوں سے ریفرنڈم لگتے ہیں۔ عوام میں پائی جانے والی مایوسی کے نتیجے میں انتخابات میں ٹرن آوٹ نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ دستوری کونسل کی پالیسیاں ہیں جس نے بہت سے اہم صدارتی امیداروں کو الیکشن ہی سے باہر کردیا۔

ایک سوال کے جواب میں فائزہ ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں عوام نے ’تبدیلی‘ کے نعرے کو ووٹ دیا مگر احمدی نژاد کی کامیابی نے اصلاح پسندوں کوسخت مایوس کیا۔ دوسری طرف اصلاح پسند طبقہ کوئی کرشماتی یاموثر لیڈر سامنے لانے میں ناکام رہے اور میر حسین موسوی کی شکست نے اصلاح پسندوں کے حوالے سے عوامی حلقوں میں مایوسی میں اضافہ کیا۔

امان ملی کو دیے گئے انٹرویو میں فائزہ ہاشمی نے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی کو مشورہ دیا کہ وہ انتخابات کے حقیقی فہم کے مطابق ٹھوس تبدیلیوں کے لیے اقدامات کریں اور محض برائے نام رائے عامہ کے جائزوں پر کان نہ دھریں اور صرف اقتدار فائز رہنے کی کوشش نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران متشدد گروپ کے ہاتھوں میں جکڑا ہوا ہے اور ملک کے بیشتر فیصلہ ساز ادارے شدت پسندوں کے ہاتھ میں ہیں۔