.

شام: بشارالاسد کی چوتھی مدتِ صدارت کے لیے حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد نے ہفتے کے روز چوتھی سات سالہ مدت کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انھوں نے مغرب کی عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے اثرات پر قابو پانے اور حزب اختلاف کے زیر قبضہ مغربی صوبہ ادلب اور دوسرے علاقوں کو حکومت کی عمل داری میں لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب دمشق میں صدارتی محل میں منعقد ہوئی ہے۔اس میں حکومت نوازعلماء، دانشور ،قانون ساز ، سیاسی شخصیات ، فوجی افسر اور بشارالاسد کے حامی کارکنان شریک تھے۔

بشارالاسد جب اپنے عہدے کا حلف لے رہے تھے تو عین اس وقت ان کی فوج نے حزب اختلاف کے زیرقبضہ صوبہ ادلب میں بعض علاقوں پر گولہ باری کی ہے، جس کے نتیجے میں چھے افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں ایک ہی خاندان کے تین بچّے اور ان کی دادی اماں شامل ہیں۔

بشارالاسد 2000ء سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔ وہ جنگ زدہ ملک میں مئی میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں چوتھی مدت کے لیے بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔ان انتخابات کے انعقاد سے قبل بھی ان کی جیت پر کسی کو شک نہیں تھا۔مغربی ممالک اور شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قرار دیا تھا اور ان کے نتائج کومسترد کردیا تھا۔

شام کو یورپ اور امریکا کی پابندیوں کی وجہ سے اس وقت بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔بشارالاسد نے اپنی تقریر میں کہا کہ’’انھیں معیشت کی بحالی اور جنگ کے سماجی مضمرات سے نمٹنے کے حوالے سےتشویش لاحق ہے۔چیزوں کو بہتربنانا ممکن ہے اور یقینی طور پرایسا ممکن ہے۔جنگ اور محاصرے سے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ہم ان سے باہر نکل سکتے ہیں لیکن ہمیں صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کیسے باہر جاسکتے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق ملک میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ اوراقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں 80 فی صد سے زیادہ شامی غُربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزاررہے ہیں۔شامی کرنسی کی قدرروزبروز گرتی جارہی ہے،بنیادی خدمات اور وسائل کم یاب ہوتے جارہے ہیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں۔

صدراسد نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی رقوم لبنانی بنکوں میں پڑی ہیں۔ان کے تخمینے کے مطابق ان کی مالیت 40 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔شامی معیشت کے لیے یہ پابندیوں سے بڑاچیلنج ہے۔لبنان کو اس وقت خود اقتصادی بحران کا سامنا ہےاوراس نے شام کو اس کی رقوم سے محروم کررکھا ہے۔اس کی وجہ سے شامی پاؤنڈ کو کرنسی کی مارکیٹ میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔اس وقت قریباً تین ہزار شامی پاؤنڈ میں ایک ڈالر آرہا ہے جبکہ شام میں خانہ جنگی چھڑنے سے قبل ایک ڈالر کی قیمت 47 پاؤنڈ تھی۔

بشارالاسد نے حلف برداری کے بعد چینی وزیرخارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔ وہ ہفتے کی صبح دمشق پہنچے تھے۔وہ گذشتہ کئی برسوں کے بعد شام کا دورہ کرنے والے چین کے پہلے اعلیٰ عہدے دار ہیں۔شامی صدر نے چین کی جانب سے اپنی حکومت کی حمایت پر وزیرخارجہ یی کا شکریہ ادا کیا۔