.

عراقی وزیراعظم کا تجزیہ نگار ہشام الہاشمی کے قاتل کی گرفتاری کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نےکل جمعہ کے روز عراقی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار ہشام الہاشمی کے قاتل کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ الہاشمی کو جولائی 2020 میں قتل ٹارگٹ کلنگ میں قتل کردیا تھا۔

الکاظمی نے ’ٹویٹر‘ پر کہا کہ ہم نے ہشام الہاشمی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے یہ وعدہ پورا کیا۔ اس سے قبل ہم نے ڈیتھ اسکواڈ قائم کیا اور احمد عبد الصمد کے قاتلوں کو عدالت میں پیش کیا۔ ان کے علاوہ ہماری فورسز نے سیکڑوں مجرموں کو گرفتار کرلیا جو بے گناہوں کے خون میں ملوث ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر ایک کو تنقید کا حق ہے۔ ہم سستی شہرت کے لیے کام نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی بولی لگاتے ہیں لیکن ہم اپنی ذمہ داری اپنے عوام کی خدمت اور انصاف کے حصول کے لیے جس حد تک کر سکتے ہیں کریں گے۔

سکیورٹی فورسز نے الہاشمی کے قاتل احمد حمداوی عوید کو گرفتار کیا۔ اس نے چار دیگر افراد کے ساتھ مل کر اس جرم کا ارتکاب کیا۔

ملزم پولیس میں فرسٹ لیفٹیننٹ افسر ہے۔ ’’العربیہ‘‘ سے گفتگو میں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے ہشام الہاشمی کو چار سے پانچ گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ دم توڑ گئے۔

الہاشمی کے قاتل بغداد کے علاقے البواعثیہ میں جمع ہوئے۔ وہ دو موٹر سائیکلوں اور ایک کار پر وہاں آئے تھےتاکہ الہاشمی کو قتل کیا جا سکے۔

عراق میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ، فائق زیدان نے جولائی کے اوائل میں سیاسی تجزیہ کار ہشام الہاشمی کے قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

الہاشمی کو چھ جولائی 2020 کو دارالحکومت بغداد کے وسط میں نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ یہ حملہ ان کے گھر کے قریب کیا گیا۔