.

بانیاس بندرگاہ سےلبنان تک ایرانی پٹرول کی ترسیل میں حزب اللہ ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے رہ نما حسن نصراللہ ، ایندھن کے بحران کی اس لائن میں داخل ہوئے جس کا سامنا پورے ملک کو درپیش تھا۔ انہوں نےعندیہ دیا تھا کہ ایران لبنانی کرنسی سامان بھیجنے پر آمادہ ہوجائے گا۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ریاست خاموش رہی توان کی جماعت تہران جا کر پیٹرول جہازوں کی خریداری پر بات چیت کرے گی۔

اگرچہ پارٹی کے اس پیش کش نے لبنان کو پابندیوں کے طوفان کی نگاہ میں ڈال دیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ آئندہ ہفتے کے وسط میں حقیقت سامنے آجائے گی۔

اگرچہ نصراللہ نے لبنانی ریاست کو یہ نشاندہی کرتے ہوئے چیلنج کیا کہ ایرانی پٹرول جہاز بحری بندرگاہ کی سمت میں اپنے سامان کو اتارنے سے پہلے لنگر انداز کریں گے۔ بیروت بندرگاہ اگست سے ہی آفت کا شکارہے۔ گذشتہ برس اگست میں بیروت بندرگاہ پر دھماکو کے نتیجے میں ایرانی پٹرول کیلئے محفوظ راستہ نہیں ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرنے والے باخبر حلقوں کے مطابق حزب اللہ کے رہ نما جو بیروت کی بندرگاہ سے ایرانی بحری جہاز لبنان لانے پر اصرار کرتے تھے ، نے اپنے ایک اتحادی کے مشورے پر یہ خیال ترک کردیا کہ لبنان برداشت نہیں کرسکتا۔ اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی گئیں لہذا اس نے ایرانی قیادت کے ساتھ شام میں بنیاس بندرگاہ جو ایرانی تیل جہازوں کی منزل ہےکو متبادل بندرگاہ کے طورپر مختص کرنے پر اتفاق کیا۔

ان حلقوں کا کہناہے کہ ایرانی پٹرول جہاز جن کی تعداد 4 ہوسکتی ہے اب وہ بنیاس بندرگاہ پر موجود ہیں اور اگلے ہفتے سے انھیں سامان اتارا جائے گا۔

ان حلقوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حزب اللہ نے ایندھن کی ترسیل کے لیے انفراسٹرکچر تیار کیا ہے جس سے بنیادی طور پر بقاع ، جنوب ، اور جنوبی نواحی علاقوں میں اس کے اطراف کے لوگوں کو فائدہ ہو گا۔انہوں نے پٹرول کو ذخیرہ کرنے کے لیے متعدد سہولیات کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ .

ایک متعلقہ سیاق و سباق میں باخبر حلقوں نے تجویز پیش کی کہ "الامانہ" ایندھن اسٹیشن جو لبنان کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انھیں گذشتہ سال "حزب اللہ" سے وابستگی کی وجہ سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔