.

امریکی کانگریس: ایرانی نظام حکومت کی فنڈنگ کے ذرائع کے انکشاف کے لیے قانونی بل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز نے کانگریس میں ایک قانونی بل کا منصوبہ پیش کیا۔ اس کا مقصد ایرانی حکومتی نظام کی دولت کے ذرائع کا انکشاف کرنا ہے۔ واضح رہے کہ ایران پر امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

ریپبلکن رکن کانگریس فرنچ ہیل اور ان کے ڈیموکریٹک ساتھی اِل لاؤسن نے واضح کیا ہے کہ "ایک طرف ایرانیوں کا اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ ہے جب کہ دوسری طرف ایرانی ذمے داران خطے میں دہشت گردی کی فنڈنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی شہریوں کو نظر انداز کر دیا ہے جو تہران کے نظام کی آمریت کے سائے میں مشکلات سے دوچار ہیں"۔

ہفتے کے روز عربی روزنامے "الشرق الاوسط" میں شائع رپورٹ کے مطابق مذکورہ دونوں ارکان کانگریس نے واضح کیا ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنئی کی دولت 95 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

ارکان کانگریس کے مطابق ایرانی عہدے داران کی فنڈنگ کے ذرائع کے انکشاف سے تہران کی جانب سے خطے میں اپنے ایجنٹوں کی سپورٹ کی تفصیلات بھی بے نقاب ہوں گی۔ ان ایجنٹوں میں حماس، حزب اللہ، شام میں مسلح عناصر اور عراق اور یمن میں دہشت گرد گروپ شامل ہیں۔

قانون بل کا منصوبہ "ایرانی ذمے داران کے محاسبے کا قانون برائے 2021" کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ قانون امریکی انتظامیہ کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایرانی نظام حکومت کے ذمے داران کی جانب سے منی لانڈرنگ یا دیگر غیر قانونی طریقوں سے اکٹھا کی گئی دولت کے حوالے سے اپنے پاس موجود کسی بھی انٹیلی جنس معلومات کا انکشاف کرے۔

امریکی قانون سازوں کے مطابق مجوزہ قانونی بل سے کانگریس کو اس بات میں بھی مدد ملے گی کہ وہ ایران کے غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس اور ایرانی ذمے داران کی مالی سرگرمیوں میں شامل بینکوں پر نئی پابندیاں عائد کر سکے۔

قانونی بل کے متن کے مطابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر لازم ہو گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 روز میں ایرانی نظام حکومت کی اور ایرانی حکومت کے ساتھ تعامل کرنے والے مالیاتی اداروں کی مالی رقوم کے تخمینے پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔

اسی طرح رپورٹ میں 20 ایرانی ذمے داران کی دولت کی تفصیل پیش کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ ان میں ایرانی رہبر اعلی، ایرانی صدر، ارکان پارلیمنٹ، وزیر انٹیلی جنس و سیکورٹی، ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی قیادت شامل ہے۔