.

ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن اور تشدد بند کرنے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پانی کی قلت اور رہائش کے ناقص حالات کی وجہ سے جنوب مغربی ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف امریکا نے جمعہ کے روز ایرانی سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد اور مظاہرین کے خلاف اندھا دھند کریک ڈاؤن بند کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم پر امن عوامی احتجاج کی حمایت کرتے ہیں اور ایرانی عوام کے حقوق اور مطالبات میں ان کے ساتھ ہیں۔ مظاہرین کو سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ تشدد یا گرفتاری کے خوف کے بغیر پر امن احتجاج کا حق ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اس نے ایرانی حکومت کی اہواز میں انٹرنیٹ بند ہونے کی اطلاعات پر نظر ہے۔ ہم تہران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو آزادی اظہار کے عالمی حقوق کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ کی سہولت اور معلومات تک رسائی کا حق فراہم کرے۔

نیٹ بلاکس تنظیم جو دنیا میں انٹرنیٹ کی آزادی پر نظر رکھتی ہے نے جمعرات کو اہواز میں انٹرنیٹ سروس میں تقریبا مکمل طور پر بند کیے جانے کی صدیق کی تھی۔

ادھر ایرانی پولیس اور دوسرے سیکیورٹی اداروں نے اھواز میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف جاری احتجاج کو کچلنے کے لیے مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی پولیس نے صوبہ اھواز کے کئی اضلاع میں چھاپوں کے دوران دسیوں مظاہرین کو حراست میں لینے کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔