.

عراقی وزیراعظم کا بغداد میں خودکش دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے دہشت گردی کے ایک سیل کے بعض ارکان کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ان پر پانچ روز قبل دارالحکومت بغداد میں خودکش بم دھماکے میں ملوّث ہونے کا شُبہ ہے۔اس بم دھماکے میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصطفیٰ الکاظمی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ہم نے بزدل دہشت گرد سیل کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔انھوں نے ہی صدرسٹی میں واقع الوحیلات مارکیٹ میں بم حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنایا تھا۔انھیں آج ایک جج کے روبرو پیش کردیا گیا ہے۔‘‘

بغداد کے علاقے صدرسٹی میں گذشتہ سوموار کی شب بم دھماکے میں 35 افراد ہلاک اورکم سے کم 40 زخمی ہوگئے تھے۔اس دھماکے کے نتیجے میں متعدد دکانیں جل گئی تھیں۔مہلوکین میں خواتین اوربچے بھی شامل تھے۔اس وقت مارکیٹ میں لوگوں کی بڑی تعداد عیدالاضحیٰ سے ایک روز قبل کھانے پینے اورروزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری میں مصروف تھی۔

کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔قبل ازیں جنوری میں سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے بغداد میں ایک مصروف بازارمیں دُہرے خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس دھماکے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گذشتہ تین سال میں داعش کا بغداد میں یہ بڑا حملہ تھا۔