.

سعودی عرب:حمیٰ کے کنوئیں’یونیسکو‘ کے عالمی ورثے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کی بدولت سعودی عرب کو مزید ایک اہم اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے نجران کے علاقے میں واقع ’حمیٰ کے کنوئیں‘ بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیے ہیں۔

آبار حمیٰ یعنی حمیٰ کےکنوئیں نجران کے اہم تاریخی اورثقافتی مقامات ہیں۔ ماضی میں اس راستے سے جزیرۃ العرب کے جنوب اور شمال کے لیے تجارتی قافلہ جاتے تھے۔ یہ کنوئیں قافلوں کے راستے پر واقع ہیں جن کی تعداد چھ ہے۔ یہاں پر نہ صرف صدیوں پرانے کنوئیں اپنی اصل حالت میں موجود ہیں بلکہ ان کے اطراف میں موجود چٹانوں پر عبارتیں اور طرح طرح کے نقوش اور خاکے بھی موجود ہیں۔

یہاں پر کل 13 ایسے مقامات ہیں جن پر جانوروں کو پانی پلانے، شکار، انسانی شکلیں موجود ہیں۔ انسانوں کے خاکوں میں روایتی عرب لباس ظاہر ہوتا ہے۔ بعض تصاویر میں لوگوں کو روایتی ہتھیار اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ چاقووں اور آلات موسیقی کے خاکے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے ’حمیٰ کے کنوئیں‘ نجران شہر سے 130 کلو میٹر شمال میں واقع ہیں۔تاریخی اعتبار سے حمیٰ کا علاقہ ثار گورنری میں شامل رہا ہے۔ ان میں بعض مقامات سات سو قبل مسیح کے بتائے جاتے ہیں۔ یہ ایک میوزیم ہے جسے دیکھنے والے براہ راست ماضی میں چلے جاتے ہیں۔ پتھروں پر موجود نقوش میں ثمودی عبارتیں بھی ہیں جب کہ کوفی عربی رسم الخط کی عبارتیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان کنوؤں کو مقامی سطح پر ام نخلہ، القرائن، الجناح، سقیا ، الحماطہ اور الحبیسہ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔

ان کنوؤں میں آج بھی پانی موجود ہے۔ صدیوں قبل یہاں سے گذرنے والے قافلے ان چشموں سے پانی پیتے اور اپنے جانوروں کو بھی سیراب کرتے تھے۔

نجران کے تاریخی کنوؤں میں بئر الحصینیہ بھی شامل ہے، یہ کنواں حبونا گورنری میں مرکزالحصینیہ میں واقع ہے۔ یہ پانی کا ایک چشمہ ہے جس کی تاریخ تین سو سال پرانی بیان کی جاتی ہے۔