.

اسرائیلی خاتون کا عطیہ گردہ اماراتی شہری کے لیے نئی زندگی کا پیغام بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں گردوں کے ایک مریض کی زندگی بچانے کے لیے اسرائیلی خاتون نے اپنا گردہ عطیہ کیا ہے جسے نازک پیوند کاری سرجری کے ذریعے اماراتی مریض کو لگایا جائے گا تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے معاہدے کے تحت 39 سالہ اسرائیلی شہری شانی مارکویز منشھر ابو ظبی میں زیر علاج ایک مریض کی جان بچانے کے لئے بدھ کے روز اپنا ایک گردہ عطیہ کر یں گی۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اعضاء عطیہ کرنے کا ایک وسیع البنیاد معاہدہ ہے جس کے تحت 28 جولائی بروز بدھ اسرائیل کی انتالیس 39 سالہ شانی ماکوریز منشھر کا گردہ عطیہ کرنے کے لئے سرجری کی جا رہی ہے۔ منشھر کا عطیہ کردہ یہ گردہ ابوظبی میں مقیم اماراتی شہری کو نئی زندگی دینے کے لیے لگایا جائے گا۔

اعضاء کی پیوندکاری کا یہ پروگرام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے ابراھم معاہدے کا نتیجہ ہے جس کے تحت مشرق اوسط کے دو اہم ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آئے۔

اسرائیل کے شیبا میڈیکل سنٹر کے ترجمان سٹیو والز کے مطابق اس پروگرام کے تحت دونوں ممالک میں مریضوں کی جان بچانے کے لئے اعضاء کی پیوندکاری ممکن ہو سکے گی۔

گردہ عطیہ کرنے والی منشھر کی والدہ کو بھی گردہ پیوندکاری کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں بھی علاج کے لئے شیبا میڈیکل سنٹر میں داخل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حیفا میں واقع رمبم مرکز صحت میں زیر علاج ایک اسرائیلی مریض کو یو اے ای سے عطیہ کردہ گردہ لگایا جائے گا۔

گذشتہ برس 15 ستمبر کو طے پانے والے ابراھم معاہدے کے بعد سے اب تک امارات اور اسرائیل کے درمیان صحت، ہوابازی، سیاحت، فوڈ سکیورٹی، زراعت اور دفاع سمیت دیگر کئی اہم شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں متحدہ عرب امارات نے تل ابیب میں اپنے سفارتخانے کا باضابطہ افتتاح کیا جسے اسرائیلی صدر نے ’’مستقبل اور امن کے لئے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔‘‘

گذشتہ ماہ اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لیپد نے امارات میں اسرائیلی سفارتخانے کا افتتاح کیا تھا۔