.

لبنان:نجیب میقاتی نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے پارلیمان کی حمایت کے حصول میں کامیاب

معروف کاروباری شخصیت اورسابق وزیراعظم کے حق میں پارلیمان کے 118 ارکان میں سے 73 کے ووٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشیل عون نے سابق وزیراعظم اور معروف کاروباری شخصیت نجیب میقاتی کو نئی کابینہ کی تشکیل کی دعوت دی ہے۔ان سے پہلے دونامزد وزیراعظم نئی حکومت کی تشکیل میں ناکام رہے ہیں۔

پارلیمانی مشاورت کے دوران میں ارکان کی اکثریت نے نجیب میقاتی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور لبنانی پارلیمنٹ کے 118 میں سے 73 ارکان نے ان کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت بیشتر جماعتوں کے پارلیمانی بلاکوں نے میقاتی کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔

ان سے پہلےمستقبل تحریک کے سربراہ سعد الحریری دس ماہ تک نئی حکومت کی تشکیل میں ناکام رہے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ہفتے صدر عون سے اختلافات کے بعد کابینہ بنانے سے معذرت کرلی تھی۔اس کے بعد لبنانی صدر نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے آج سوموار کو پارلیمان سے مشاورت کی ہے۔

لبنان کے چار سابق وزرائے اعظم فوادالسنیورہ،تمام سلام، سعدالحریری اور نجیب میقاتی نے اتوار کوبیت الوسط (بیروت میں واقع حریری کا صدردفتر) میں ایک اجلاس منعقد کیا تھا اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مؤخرالذکرکی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔

لبنان کےپارلیمانی بلاکوں میں سے ایک ولید جنبلاط کے زیرقیادت ڈیموکریٹک بلاک نے بھی نجیب میقاتی کو وزیراعظم کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعدالحریری کی سربراہی میں مستقبل تحریک اور پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری کی سربراہی میں ’امل تحریک‘اور سلیمان فرنجیہ کے زیر قیادت المردہ نےبھی انھیں نامزد کرنے کااعلان کیا تھا۔

مسیحی لیڈر سمیرجعجع کے زیرقیادت لبنانی فورسزپارٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والے’’مضبوط جمہوریہ بلاک‘‘ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمانی مشاورت میں کسی کا نام نہیں لے گی اور قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کرانے کے مطالبے کا اعادہ کرے گی۔

دوسری لبنان کے شہری گروپوں نے نجیب میقاتی کی وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے دوبارہ نامزدگی کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے اتوار کی شب بیروت میں میقاتی کی اقامت گاہ کے باہراحتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔مظاہرین نے کہا کہ وہ میقاتی کو وزیراعظم کے طور پرمسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ حکمران سیاسی اشرافیہ ہی کی علامت ہیں جس نے ملک کو معاشی تباہی سے دوچار کیاہے۔

لبنان میں گذشتہ قریباً ایک سال سے کوئی فعال حکومت نہیں ہے اور ایک عبوری حکومت ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے۔لبنانی حکومت گذشتہ سال 4 اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے بعد مستعفی ہوگئی تھی۔

لبنان کو اس وقت بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔لوگ نان جویں کو ترس رہے ہیں اور افراط زر کی شرح آسمان سے باتیں کررہی ہے۔عالمی بنک کے مطابق لبنان میں گذشتہ ڈیڑھ سو سال میں اس طرح کے بدترین معاشی بحران کی نظیرنہیں ملتی ہے۔تاہم نجیب میقاتی کی نامزدگی کی خبریں منظرعام پرآنے کے بعد سوموارکو لبنانی پاؤنڈ کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔