.

اماراتی خاتون سائنس دان مصنوعی ذہانت کو "خصوصی افراد" کی خدمت میں لانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی خاتون سائنس سان ڈاکٹر مریم الیماحی نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت کے لیے سائنسی تحقیق میں مصروف رہتی ہیں۔

مریم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ L’Oréal-UNESCO for Women in Science Middle East Fellowship بھی حاصل کر چکی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں مریم نے بتایا کہ وہ اس وقت شمالی کوریا میں ایک یونیورسٹی کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے استفادے کے لیے سائنسی تحقیق کر رہی ہیں۔ یہ کام ایسی ایپلی کیشنز پر ہو رہا ہے جو "صاحب عزیمت" افراد (امارات نے معذور اور خصوصی افراد کے لیے یہ اصطلاح رائج کی ہے) کو فائدہ دے سکیں کیوں کہ یہ معاشرے کا ایک اہم طبقہ ہے۔

ڈاکٹر مریم کے مطابق وہ ایسے منصوبوں پر عمل درامد کا ارادہ رکھتی ہیں جو سماج اور انسانیت کی خدمت کے کام آئے۔ وہ سرکاری اور نجی سیکٹر کے اداروں کے لیے ورک شاپس پیش کرتی ہیں۔ اس کا مقصد اداروں کی سطح پر مصنوعی ذہانت کی پالیسی ایپلی کینشنز کے نفاذ کے طریقہ کار کو سکھانا ہے۔

ڈاکٹر مریم اپنی ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ حاصل کرتے ہوئے۔
ڈاکٹر مریم اپنی ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ حاصل کرتے ہوئے۔

ڈاکٹر مریم الیماحی متحدہ عرب امارات کے شہر دبا الفجیرہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 2012ء میں امریکا میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کیا اور پھر 2015ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں 2019ء میں سائنس کے میدان میں ڈاکٹر مریم کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں انہیں یونیسکو کی فیلو شپ سے نوازا گیا۔ وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔

مریم ایک ایسا پروگرام تیار کرنے کا عزم رکھتی ہیں جس پر عالمی سرچ انجن "گوگل" کی طرح اعتماد کیا جا سکے۔ یہ پروگرام جدید خصوصیات اور اماراتی تخلیق کا حامل ہو گا۔

مریم کہتی ہیں کہ راہ میں آنے والے چیلنجوں سے اچھے مواقع جنم لیتے ہیں۔ وہ ان چیلنجوں کے ساتھ عزیمت اور ثابت قدمی سے نمٹتی ہیں۔ مریم کے مطابق وہ مستقبل کے حوالے سے بڑے عزائم اور بہت سے اہداف رکھتی ہیں۔ وہ ایسی آگاہی پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں جو عورت کو با اختیار بنائے اور عالمی سطح پر انسانیت کی خدمت میں کردار ادا کر سکے۔