.

سعودی شہری نے اپنے گھر میں پرانی کاروں کا میوزم بنا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں پرانی گاڑیوں کے شوقین ایک شہری نے اپنے گھر کو پرانی کاروں کے میوزیم میں بدل ڈالا۔

شاہ سعود یونیورسٹی میں نصاب تعلیم کے ماہر ڈاکٹر ناصر المسعری نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد پرانی کاریں جمع کرنا شروع کیں اور انہیں رکھنے کے لیے اپنے گھر میں 2 ہزار مربع میٹر کی جگہ مختص کی۔ ڈاکٹر المسعری نے اس میوزم میں 36 پرانے ماڈل کی کاریں محفوظ کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ایک ورکشاپ بھی قائم کی ہے جہاں پر پرانی کاروں کی مرمت کی جاتی ہے۔

تدریس کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر المسعری کا یہ شوق اس کے پیشے سے بالکل مختلف اور نرالا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پرانی کاریں جمع کرنےکا شوق کافی پرانا ہے اور وہ چالیس سال سے اس شوق کو پالے ہوئے ہوئے ہے۔ اس نے پہلی پرانی کار حاصل کی جس کا ماڈل 1948 کا ہے جب کہ امریکا میں حصول تعلیم کے دوران اس کے پاس کاڈیلاک کی 1946 ماڈل کی کار اس کے پاس تھی۔

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ اس نے برطانیہ کے شہر لورنس میں کار ریس کے مقابلے میں شرکت کی۔ اسے وہ پرجوش لمحات آج بھی یاد ہیں۔ وہ اس وقت پرانی اور نئی کاروں سے بہت متاثر ہوا تاہم اس وقت اس کی عمر محض انیس سال تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے المسعری نے کہا کہ اس کے پاس اب تک پرانے ماڈل کی 36 کاریں موجود ہیں۔ ان میں پانچ کاریں بیرون ملک سے منگوائی گئی ہیں۔ زیادہ تر کاریں سنہ 1929 اور 1979 کے عرصے کے دوران کی ہیں جو زیادہ تر امریکی ہیں جب کہ ان کاروں میں یورپی کمپنیوں بائیک، کاڈیلاک اور کرائسلر کی کاریں بھی شامل ہیں۔

ناصر المسعري
ناصر المسعري

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ناصر المسعری نےکہا کہ اس نے مجموعی طور پر پرانے ماڈل کی 50 کریں حاصل کی ہیں۔ تاہم ان میں سے 36 کاریں میوزم میں رکھی گئی ہیں۔ ان کاروں میں سے ہر ایک کی قیمت ایک لاکھ امریکی ڈالر سے کم نہیں۔ ان میں سے بعض نیلامی میں فروخت کی گئی ہیں۔