.

تہران : خامنہ ای کے خلاف نعرے، مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں کئی روز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جہاں مظاہرین نظام حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہفتے کی شام ایک بار پھر مظاہرے دیکھنے میں آئے جب دارالحکومت کے دو علاقوں میں لوگ بڑی تعداد میں اکٹھا ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والے وڈیو کلپوں میں مظاہرین کو یہ نعرے بھی لگاتے ہوئے دیکھا گیا : "آمر مردہ باد" ... ملک میں پانی ختم ہو رہا ہے اور دباؤ بڑھ رہا ہے"۔

اس کے مقابل ایرانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کی سمت آنسو گیس کے گولے پھینکے تا کہ انہیں تہران اسٹیج اسکوائر کے سامنے منتشر کیا جا سکے۔

جمعے کی شب ایک مقامی فٹبال ٹیم کی کامیابی کے جشن نے تہران اور کئی دیگر شہروں میں ایرانی نظام حکومت کے خلاف بھرپور مظاہروں کی صورت اختیار کر لی۔ یہاں مظاہرین نے خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان میں "آمر مردہ باد" ، "اسلامی جمہوریہ مردہ باد"، "یہ ولایت مردہ باد" اور "یہ تمام سال جرائم پر مبنی ہیں" کے نعرے شامل تھے۔ یاد رہے کہ احتجاجی سلسلے کا آغاز 15 روز قبل خوزستان میں ہوا تھا۔

ایسے وقت میں جب حکام نے انٹرنیٹ کا سلسلہ منقطع کر رکھا ہے ،،، ایرانی اپوزیشن رہ نما مریم رجوی نے ہفتے کے روز انسانی حقوق کے دفاعی کمیشن اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کے تعطل کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

ایرانی تنظیم "مجاہدین خلق" کی رہ نما مریم رجوی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ انٹرنیٹ کی خدمت منقطع کر کے رہبر اعلی خامنہ ای شہریوں کو ہم آواز ہو کر مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے اور اپنی آواز دنیا تک پہنچانے سے روکنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ اہواز صوبے میں عرب آبادی نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جو بعد ازاں دارالحکومت تہران اور ایران کے دیگر صوبوں میں بھی منتقل ہو گیا۔

اہواز میں پانی کی قلت پر ایک ہفتے سے زیادہ مدت سے احتجاج ہو رہا ہے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں احتجاجیوں میں شامل دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔