.

غزہ : اسماعیل ہنیہ دوسری مدت کے لیے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسماعیل ہنیہ کواسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کا دوسری مدت کے لیے سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔

غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے ایک عہدہ دار نے اتوار کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’بھائی اسماعیل ہنیہ کو چار سال کی مدت کے لیے دوبارہ تحریک کے سیاسی دفتر کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔‘‘

ان کے اس انتخاب سے قبل مارچ میں یحییٰ السنوار کو دوسری مدت کے لیے غزہ میں حماس کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا اور مئی میں اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد تنظیم کے باقی عہدے داروں کا انتخاب ملتوی کردیاگیا تھا۔

اسماعیل ہنیہ 2017ء میں حماس کے سیاسی دفتر کے پہلی مرتبہ سربراہ منتخب ہوئے تھے۔فلسطینی علاقوں اور اس سے باہرجماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی کےوہی ذمہ دار ہیں۔وہ غزہ میں حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے۔ وہ 2004ء میں اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

58 سالہ ہنیہ کے زیرقیادت حماس 2006ء میں فلسطینی سیاست میں ایک اہم کردار کے طورپراُبھری تھی اور اس نے قدیم فلسطینی جماعت فتح کو پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچارکیا تھا۔

جنوری 2006ء میں پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے فوری بعداسماعیل ہنیہ کو وزیراعظم منتخب کر لیا گیا تھا لیکن امریکا اور یورپی یونین کے زیرقیادت عالمی برادری نے ان کی حکومت چلنے نہیں دی تھی اوران کے دباؤ پر صدر محمود عباس نے حماس کی حکومت کواختیارات منتقل نہیں کیے تھے جس کی وجہ سے محدود فلسطینی اقتدار دو حصوں میں منقسم ہوگیا تھا۔

اسرائیل کے مقبوضہ غربِ اردن میں صدر محمود عباس کے زیرقیادت فتح کی بالادستی کی حامل فلسطینی اتھارٹی نے اپنی حکومت بنائی تھی جبکہ غزہ میں حماس نے الگ سے اپنی حکومت قائم کرلی تھی اوراس نے جھڑپوں کے بعد وہاں سے فتح کے حامیوں اور فلسطینی اتھارٹی کے عہدے داروں کو نکال باہر کیا تھا۔

اسرائیل نے حماس کی مخالفت میں غزہ کی پٹی کا2007ء میں محاصرہ کر لیا تھا اور تب سے اس فلسطینی علاقے کی برّی اور بحری ناکا بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔اس دوران میں اسرائیل غزہ پر تین جنگیں مسلط کرچکا ہے۔اسرائیلی طیارے آئے دن فلسطینیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ مئی میں اسرائیل کی فضائی بمباری میں 260 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے جبکہ اسرائیلی مزاحمت کاروں کے حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔