.

لبنان: بیروت کے جنوب میں قبائل اورحزب اللہ کےدرمیان جھڑپیں،6 افرادہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوب میں واقع قصبہ خلدہ میں قبائل اورحزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔فریقین کے درمیان حزب اللہ کے ایک مقتول جنگجو کے جنازے پر حملے کے بعد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ خلدہ میں حزب اللہ کے جنگجوعلی شبلی کے جنازے میں شریک افراد پر شدید فائرنگ کی گئی ہے۔وہ ہفتے کی شب ایک عرب قبائلی کی فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق خلدہ میں جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد فوج کو علاقےمیں تعینات کردیا گیا ہے اور وہ حزب اللہ ملیشیا اور قبائلی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔

العربیہ کے نمایندے نےاطلاع دی ہے کہ خلدہ میں حزب اللہ کے ایک معروف عہدہ دارکی نمازجنازہ کے موقع پرفریقین میں درمیانے اورہلکے ہتھیاروں سے لڑائی ہوئی ہے۔اس قصبے میں حالات سخت کشیدہ بتائے جاتے ہیں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

آج سہ پہرجھڑپوں میں حزب اللہ ملیشیا کا ایک اورجنگجو علی برکات مارا گیا ہے۔لبنان کی انجمن ہلال احمر نے خلدہ میں فوری جنگ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کی امدادی ٹیم زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرسکے۔

حزب اللہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہفتہ کے روز آلِ غصن کے ایک نوجوان عرب رکن کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہونے والےعلی شبلی کے جنازے پر حملے میں چھے افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اس کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔دوحہ ارمون اورخلدہ کے درمیان واقع شاہراہ پر دونوں سمتوں سے فائرنگ اور راکٹ سے چلنے والے گرینیڈوں کے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔اس سے محلہ کےمکینوں میں کشیدگی اورخوف وہراس پھیل گیا ہے۔

اس کے علاوہ فوج نے فائرنگ کی شدت کے باعث خلدہ سے بیروت کی طرف جانے والی شاہراہ بند کردی ہے اور بعض شہری اپنی گاڑیاں سڑک کے درمیان میں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور ٹریفک کو ذیلی سڑکوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ خلدہ سے تعلق رکھنے والے عرب قبائل نے گذشتہ روز حزب اللہ کے جنگجو کے قتل کے بعد ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں بتایا تھا کہ’’حزب اللہ کے جنگجو کو ایک عرب مقتول کے انتقام میں ہلاک کیا گیا تھا۔‘‘

خلدہ کے قبائل نے اپنے بیان میں وضاحت کی تھی کہ ’’ہم لبنان میں مقیم عرب قبائل ہیں۔ہمارے عربوں میں یہ روایت ہے کہ اگر دونوں جھگڑالو فریقوں میں مصالحت نہ ہو تو پھرباغی گروہ سے نمٹا جائے۔علی شبلی کے ساتھ جوکچھ ہوا ہے،وہ بدلے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

’’اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ مقتول علی شبلی کا خاندان اس ہلاکت کوآنکھ کے بدلے آنکھ (اور جان کے بدلے جان)والا معاملہ سمجھے اوراب مزید زیادتی نہ کرے کیونکہ ہم شہری امن ،حقِ ہمسائگی اور قومی شرکت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔