.

اسرائیل نے ایران کے جوہری راز چوری کیے: حسن روحانی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سبکدوش ہونے والے ایرانی صدر حسن روحانی نے اتوار کو اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری راز اور اہم معلومات چوری کی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ صدر حسن روحانی نے تہران میں اپنے آخری حکومتی خطاب میں کہا کہ اسرائیلیوں نے ایران کے حساس راز چھین لیے اور انہیں ٹرمپ کے حوالے کر دیا۔ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق راز حاصل کرنے کے بعد ایران کے ساتھ طے پایا معاہدہ ختم کردیا۔

سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مئی 2018 میں ایرانی جوہری ذخیرہ چوری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا ایرانی جوہری راز چوری کرنے کا آپریشن کامیاب رہا۔ موساد نے نصف ٹن سے زائد دستاویزات چوری کیں جن میں 183 سی ڈیز پر 55 ہزار دستاویزات تھیں۔ انہیں ایرانی دارالحکومت تہران کے قریب ایک گودام سے "عماد" نامی پروجیکٹ سے چوری کیا گیا۔

ایران کا انکار اور پھر اعتراف

تین سال قبل جب نیتن یاھو نے ایرانی جوہری راز چوری کرنے کا دعویٰ کیا تو ایران نے اسے یکسر مسترد کردیا تھا۔ اس وقت میڈیا میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ جوہری دستاویزات کو تہران کے قریب ترکوز آباد سے دو ٹرکوں کے ذریعے پڑوسی ملک جمہوریہ آذربائیجان لایا گیا، تاہم باکو جس کے تل ابیب کے ساتھ اچھے تعلقات استوارہیں نے ایرانی جوہری راز چوری کرنے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی تردید کی تھی۔

دستاویزات کی چوری کا اعلان پر شروع میں ایرانی حکومتی عہدیداروں مسترد کردیا۔ ایرانی حکام نے اسرائیلی وزیر اعظم کو "جھوٹا" اور اس عمل کو "بچکانہ ، مضحکہ خیز قرا ردیا تھا۔

پہلی بار ایرانی گارڈین کونسل کے محسن رضائی نے 14 اپریل 2021 کو اسرائیل کی طرف سے جوہری دستاویزات کی چوری کا اعتراف کیا تھا۔

اس وقت تک اسرائیلی انٹیلی جنس سروس ’موساد‘ کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے ایرانی جوہری ذخیرہ چوری کرنے کی کارروائی کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں تھیں۔ یوسی کوہین نے اس کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں موساد کے 20 ایجںٹوں نے حصہ لیا۔ وہ سب اس وقت زندہ ہیں۔ راز دورہ کرنے کے بعد وہ ایران سے چلے گئے تھے۔

گذشتہ 11 جون کو اسرائیلی چینل 12 پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کوہن نے وضاحت کی کہ آپریشن کے دوران ایٹمی پروگرام کے آرکائیوز سے دستاویزات پر مشتمل 32 سیف سات گھنٹے کے اندر کھولے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی دو سال تک تیاری کی گئی۔