.

جدہ میں عجائب گھروں کی سیاحت، ماضی پر گواہ اور حال کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جدہ ضلع کے اندر واقع عجائب گھروں کی سیاحت وقت کے ساتھ مقبولیت کے سفر میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہاں 11 سیاحتی مقامات ہیں جن کو "روح السعودية" کے پلیٹ فارم نے اجاگر کیا ہے۔ اسی سلسلے میں 24 جون سے سعودی سمر پروگرام 2021ء کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ پروگرام ستمبر کے اواخر تک جاری رہے گا۔

ضلع کے یہ سرکاری اور نجی عجائب گھر اس نوعیت کی سیاحت میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ کھلے عجائب خانوں کے میدان میں جدہ کا تاریخی علاقہ پیش پیش ہے۔ یہاں پرانی تاریخی ورثے کی حامل عمارتیں اور سادہ زندگی کے انداز کے علاوہ تاریخی مساجد اور عوام بازار بھی نظر آتے ہیں۔ لوگ ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کا دورہ کرتے ہیں۔

ان تاریخی چیزوں کے ساتھ ساتھ 500 سے زیادہ شاہ کار اجسام ہیں جو جدہ کے تخلیقی سحر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان شاہ کار فن پاروں کی تیاری میں سعودی عرب کے علاوہ ، عرب دنیا اور یورپ و وامریکا کے آرٹسٹوں نے بھی حصہ لیا۔

جدہ میوزیم
جدہ میوزیم
جدہ میوزیم
جدہ میوزیم

مذکورہ عجائب گھروں میں سرفہرست 'قصر خزام' کا عجائب خانہ ہے۔ یہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کا محل تھا۔ یہاں انہوں نے اپنی عملی زندگی کا ایک حصہ گزارا اور اسے اپنے دفتر کے طور پر استعمال کیا۔ یہاں وہ ریاست کے اعلی مہمانوں ، سرکاری ذمے داروں اور عوام کے نمائندوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ بیت نصیف کی تاریخی عمارت 150 سال پرانی ہے۔ یہ عمارت تعلقات اور تعاون سے متعلق اُن کئی معاہدوں کی گواہ رہی ہے جو شاہ عبدالعزیز نے متعدد دوست ممالک کے نمائندوں اور سفیروں کے ساتھ طے کیے تھے۔

مزید برآں جدہ شہر میں کئی سائنسی اور نجی عجائب گھر بھی موجود ہیں۔ ان میں نمایاں ترین "مدينة الطيبات" ہے۔ یہ جدہ شہر کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔ یہ تاریخی ورثے کا حامل ایک بند شہر ہے۔ یہاں 14 ہزار سے زیادہ نوادرات موجود ہیں جن کو 67 ہالوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

جدہ میوزیم
جدہ میوزیم
جدہ میوزیم

ادھر سعودی وزارت ثقافت نے کچھ عرصہ قبل جدہ میں "باب البنط" کی عمارت میں 'بحر احمر عجائب خانہ' بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا افتتاح 2022ء کے اواخر میں ہو گا۔ یہاں نایاب اشیاء، مخطوطات اور نادر کتب رکھی جائیں گی۔

اس عجائب گھر میں 100 سے زیادہ تخلیقی فن پارے ہوں گے۔ اسی طرح سالانہ تقریبا چار عارضی نمائشیں منعقد کی جائیں گی۔ یہاں تمام عمر کے طبقوں کے لیے تعلیمی پروگرام بھی ترتیب دیے جائیں گے۔