.

حملے کے نتیجے میں اسرائیلی آئل ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ دن پہلے عمان کے ساحل پر ایک اسرائیلی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے میں ملوث ہونے میں ایران کی مسلسل تردید اور بڑے ممالک کے تہران پر الزام لگانے کے اصرار کے جلو میں مقامی عبرانی میڈیا نے تباہ شدہ جہاز کی تصاویر شائع کی ہیں جن سے جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی چینل "13" نے "مرسر اسٹریٹ" جہاز کی پہلی تصاویر نشر کی ہیں جس پر عمان کے قریب حملہ کیا گیا۔ ٹی وی چینل کے مطابق خودکش ڈرون سے جہاز کے لیڈرشپ برج کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

یہ مناظر ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس کے پاس انٹیلی جنس شواہد ہیں جو کہ بحیرہ عرب میں جہاز کو نشانہ بنانے میں تہران کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے انکشاف کیا کہ ایران جہاز کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری سے بچنے کی بزدلانہ کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے پاس انٹیلی جنس شواہد ہیں جو بحیرہ عرب میں جہاز کو نشانہ بنانے میں تہران کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے انکشاف کیا کہ ایران جہاز کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری سے بچنے کی بزدلانہ کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ایران نے جہاز پر ڈرون سے حملہ کیا۔ ایران اسرائیلی ہدف کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن یہ واقعہ ایک برطانوی شہری اور ایک رومانیہ کے شہری کی ہلاکت کا باعث بنا۔ انہوں نےاس کارروائی کو "ایرانی جارحیت" قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی مفادات اور بحری جہاز رانی کی آزادی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کو واضح کرے کہ اس نے ایک سنگین غلطی کی ہے۔ انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اسرائیل کو جوابی پیغام دینے کے طریقے آتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز حملے میں تہران کے ملوث ہونے کی تردید کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے اسرائیل کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد" قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل کواس طرح کے بے بنیاد الزامات کو روکنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کیا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تل ابیب نے تہران کے خلاف اس طرح کے براہ راست الزامات لگائے ہیں۔ اسرائیل ماضی میں بھی اس طرح کی ’بے بنیاد‘ الزام تراشی کرتا آیا ہے۔