.

مقبوضہ بیت المقدس:شیخ جراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی سےمتعلق کیس کافیصلہ ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی عدالتِ عظمیٰ نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق کیس کا حتمی فیصلہ سماعت کے بعد مؤخر کر دیا ہے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سنے ہیں اور اس کیس پرحتمی فیصلہ نہیں سنایا۔چار فلسطینی خاندانوں نے اسرائیلی عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور اس میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ انھیں مشرقی یروشلیم میں واقع محلہ شیخ جراح میں ان کے قدیمی گھروں میں رہنے کی اجازت دے۔اسرائیلی آباد کار فلسطینیوں کی اس آبائی اراضی پر ملکیت کے دعوے دار ہیں۔

عدالت عظمیٰ جج ایک ایسا مفاہمتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے اس معاملے پرفریقین میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوسکے کیونکہ شیخ جراح میں اراضی کے تنازع پر ہی اس موسم گرما میں فلسطینیوں اور یہودی آبادکاروں میں کشیدگی بڑھی تھی اورپھر یہ غزہ میں حماس اوراسرائیل کے درمیان گیارہ روزہ جنگ پر منتج ہوئی تھی۔

عدالت میں ایک تجویز یہ پیش کی گئی تھی کہ فلسطینی خاندان اسرائیلی ملکیت کو تسلیم کریں اور وہ محفوظ کرایہ داروں کے طور پران مکانوں میں مقیم رہیں لیکن فلسطینی خاندانوں کے وکیل سامی ارشاد نے اس تجویزکوناقابل قبول قراردے کرمسترد کردیا ہے اور وہ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کی اگلی تاریخ مقررہونے کے منتظر ہیں۔وہ اسرائیل کی ماتحت عدالت کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے فیصلے کی تنسیخ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انھوں نے یروشلیم میں عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ہمیں امید ہے،عدالت ہماری اپیل منظورکرلے گی اور ان چار خاندانوں کی بے دخلی کے احکامات منسوخ کر دے گی۔‘‘انھوں نے بتایا کہ آج ہم نے عدالت میں ان خاندانوں کی جانب سے احکامات کی تنسیخ پربحث کی تھی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967 کی چھے روزہ جنگ میں مشرقی یروشلیم پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس شہر کو صہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے اس کے اقدام کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

شیخ جراح میں فلسطینی اکثریت میں آباد ہیں لیکن اسرائیلی آباد کاروں کو بھی گذشتہ برسوں کے دوران میں اس علاقے میں لابسایا گیا ہے۔مذہبی یہودی اس علاقے میں ایک قدیم یہودی مذہبی پیشوا شمعون پاک کے مقبرے کو اپنے لیے مقدس خیال کرتے ہیں اوراس کی وجہ سے وہ اس علاقے کا رُخ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی آباد کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے کیس کی حمایت میں انیسویں صدی کی زمینی دستاویزات موجود ہیں اور گذشتہ سال اکتوبر میں ایک نچلی عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

دوسری جانب فلسطینی خاندان ان دستاویزات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں اورانھوں نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائرکررکھی ہے۔

ان خاندانوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انھیں اسرائیل کے ایک قانونی ماہر کی جانب سے ایک نئی رائے موصول ہوئی ہے۔اس میں ان کے مؤقف کی حمایت کی گئی ہے کہ انھیں اپنے گھروں کی اراضی کے مکمل حقوق حاصل ہیں کیونکہ اردن کی حکومت نے انھیں اس وقت ملکیت دی تھی جب اس کا 1949ء سے 1967ء تک مشرقی یروشلیم پر کنٹرول تھا۔

یہ معاملہ اب بین الاقوامی اہمیت اختیار کرچکا ہے کیونکہ فلسطینی شیخ جراح سے بے دخلی کواسرائیلی آبادکاری میں توسیع کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں کو غیرقانونی قراردیتے ہیں لیکن اسرائیل اس سرزمین پراپنے تاریخی اور مذہبی حقِ ملکیت کا حوالہ دیتا ہے۔