.

بحری جہازوں پرحملوں کا ماسٹرمائنڈ ایرانی ’بلیک بکس‘ کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی نیوی گیشن کی سلامتی کے لیے ایرانی دھمکیوں کے دوبارہ منظر عام پر خاص طور پر خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حالیہ دو حملوں کے بعد ایرانی حکومت کی ساخت پر اور اس طرح کے حملوں کا حکم دینے اور بلیک بکس کہلانے والے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے عہدیدار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

سینیر اسرائیلی حکام نے براہ راست ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ پر شمالی بحر ہند میں اسرائیلی آئل ٹینکر مرسر اسٹریٹ پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ یہ حملہ گذشتہ جمعرات کو کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق سینیر عہدیدارحاجی زادہ کو 2009 میں ایرانی میزائل سسٹم کی تیاری اور اسے بیرون ملک برآمد کرنے کا طویل تجربہ ہے۔

اسرائیل نے علی حاجی زادہ پر جنوری 20202ء مین یوکرین کے سول طیارے کو گرانے میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔

بدھ کے روز اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز اور وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کے نمائندوں کو بتایا کہ حاجی زادہ اور پاسداران انقلاب کے بغیر پائلٹ طیاروں کی کمان کے سربراہ سعید ارجانی اسرائیلی جہاز پرحملوں کی نگرانی کی تھی۔

گینٹز نے کہا کہ علی حاجی زادہ علاقے میں ڈرون اور میزائلوں کے استعمال سے درجنوں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہےجبکہ اراجانی خودکش ڈرون لانچ کرنے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا خطے میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور تربیت اور سامان فراہم کرنا ہے۔

امیر علی حاجی زادہ بنیادی طور پر ایرانی میزائل ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذمہ دار ہیں۔ان کے دور میں تہران نے مختصر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کیے ، انہیں ریڈار اور ڈرون کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی فراہم کی اور انہیں دوسرے ممالک میں برآمد کیا۔

سنیہ 2013 میں ایران نے دعوی کیا کہ اس نے بیلسٹک میزائل مرمت کے معیاری کو بہتر بنایا ہے۔ ایران نے ایک سپرسونک اینٹی شپ میزائل بھی تیارکیا ہے جس کی رینج 250 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

سنہ 2015 میں حاجی زادہ نے شام ، عراق اور فلسطین جیسی جگہوں پر ایران کے اتحادیوں کو مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجیز کی منتقلی کا اعلان کیا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ زادہ کئی سال سے اہم عہدوں پرفائز ہے۔ سپریم لیڈر خامنہ ای کو اس پرغیرمعمولی اعتماد ہے اور اور وہ ملک میں کئی دوسرے اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے چکا ہے۔