.

لبنان پرحزب اللہ کا مسلط رہنے پر اصرار تمام مسائل کی جڑ ہے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے کہا ہےکہ لبنان پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے پر حزب اللہ کا اصرار مسائل کی اصل وجہ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بیروت بندرگاہ بم دھماکے کے کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے زور دیا کہ لبنان کو فراہم کی جانے والی کوئی بھی امداد اصلاحات سے مشروط ہونی چاہیے۔

منگل کو فرانس اور اقوام متحدہ کی دعوت پر لبنان کے لیے ڈونر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ نے بیروت بندرگاہ میں ہونے والے المناک دھماکوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات پر زور دیا۔ خیال رہے کہ یہ کانفرنس بیروت کی بندرگاہ میں دھماکے کے بعد اپنی نوعیت کی تیسری کانفرنس ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکا کو لبنان کے لیے 100 ملین ڈالر اضافی انسانی امداد دینے کا وعدہ کیا۔

فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ کانفرنس نے لبنان میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار 370 ملین ڈالر سے زائد کی امداد اکٹھی کی۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بحرانوں اور چیلنجوں کے وقت لبنانی عوام کے ساتھ مملکت کی یکجہتی کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ مملکت ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے بیروت کی بندرگاہ کے دھماکے کے بعد لبنان کو امداد فراہم کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت لبنان کی تعمیر نو میں اپنی مسلسل شراکت کو برقرار رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کو "موثر" حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنانی ریاست پر اپنی بالادستی مسلط کرنے پر حزب اللہ کا اصرار لبنان کے مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ بیروت بندرگاہ دھماکے کی تحقیقات نے ابھی تک کوئی ٹھوس نتائج حاصل نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ یا مستقبل کی لبنانی حکومت کو فراہم کی جانے والی کوئی بھی مدد اس پر منحصر ہونی چاہیے کہ وہ سنجیدہ اور ٹھوس اصلاحات کرے۔ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ امداد مستحق لوگوں تک پہنچے۔