.

اسرائیل مزید جارحیت کا خواہاں نہیں، حزب اللہ کے راکٹ کھلی اراضی میں گرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں میں باور کرایا گیا ہے کہ تل ابیب ان ہی گرینیڈز پر اکتفا کرے گا جو اس نے حزب اللہ کی جانب سے 19 کے قریب راکٹ داغے جانے کے جواب میں فائر کیے تھے۔

جمعے کی شام ان رپورٹوں میں بتایا گیا کہ حالیہ عسکری جارحیت کے بعد لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد پر ایک بار پھر خاموشی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ گھنٹوں کے دوران میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کو جواب دینا متوقع نہیں۔ ریڈیو کے مطابق اسرائیل جارحیت کی نیت نہیں رکھتا بالخصوص جب کہ حزب اللہ کے داغے گئے راکٹ کھلے علاقوں میں گرے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے کئی برس بعد جمعرات کے روز پہلی مرتبہ لبنان کی سرزمین کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ کارروائی میں ان ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا جہاں سے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی سمت راکٹ داغے گئے تھے۔

حزب اللہ نے جمعے کے روز جنوبی لبنان سے اسرائیلی ٹھکانوں کی سمت درجنوں راکٹ داغے۔ ملیشیا کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ واضح رہے کہ حزب للہ کے داغے گئے اکثر راکٹوں کو اسرائیلی فوج نے فضا میں تباہ کر دیا۔

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز جمعے کے روز حزب اللہ، لبنانی فوج اور حکومت کو یہ نصیحت کر چکے ہیں کہ وہ تل ابیب کا امتحان نہ لیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل امن کا جواب امن سے دے گا۔ لبنان میں تل ابیب کا کوئی مفاد نہیں تاہم حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز باور کرایا کہ تل ابیب لبنان کے ساتھ سرحد پر جارحیت کا خواہش مند نہیں تاہم وہ اس کے لیے تیار ہے۔ فوج کے کے ترجمان امنون شیفلر نے صحافیوں سے کہا کہ "ہم کسی بھرپور جنگ کے خواہاں نہیں مگر یقینا ہم اس کے واسطے تیار ہیں"۔

شیفلر کے مطابق لبنان سے اسرائیل پر 19 راکٹ داغے گئے، کسی کے زخمی ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ان 19 راکٹوں میں سے 3 لبنان میں ہی گر گئے اور 16 نے سرحد پار کی۔ اسرائیل کی حدود میں آنے والے راکٹوں میں سے 10 کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔