.

حزب اللہ کے راکٹوں کی تصاویر بنانے والے نوجوان کے خلاف شرانگیز مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے حامیوں نے جمعہ کے روز نوجوان یحییٰ تیمانی کے خلاف ایک شرانگیز مہم مہم شروع کی ہے۔ یہ مہم اس لیے شروع کی گئی ہے کیونکہ تیمانی نے جنوبی لبنان کے علاقے حاصبیا کے شویا گاؤں کے لوگوں کو حزب اللہ کے راکٹ داغنے کی مخالفت اورانہیں روکنے کے مناظر اپنے کیمرے میں محفوظ کیے تھے۔

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نوجوان کو قتل کرنے کے لیے اکسانے کی مہم میں یحییٰ تیمانی کی تصویر گردش کر رہی ہے۔حزب اللہ کے حامیوں نے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔

تیمانی نے ایک ویڈیو میں انکشاف کیا تھا جسے بعد میں حذف کر دیا حزب اللہ کا ایک ٹرک صبح کے وقت شویا علاقے میں آیا۔ یہ ٹرک لوگوں کے گھروں اور میرے گھر کے درمیان سے گذرا۔ ٹرک کو وہاں کھڑا کرکے اس سے فائرنگ شروع کر دی اور راکٹ لانچر نصب کیے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہم حزب اللہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم سے بات نہ کریں لیکن ہم خاموش نہ رہے اور ہم نے ان کے گرد جمع ہوکر انہیں مارنا شروع کردیا۔

شویا قصبے کے رہائشیوں نے مسلح حزب اللہ ملیشیاؤں کو روک لیا اور ایک راکٹ لانچر ضبط کرلیا۔ یہ راکٹ لانچر اسرائیل پر راکٹ حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔

لبنانی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب لبنانی فوج کو راکٹ لانچر لے جانے والی گاڑی ملی جس میں 32 راکٹ لادے گئے تھے۔

حزب اللہ نے واقعے کا اعتراف کیا تاہم کہا کہ راکٹ باری کے بعد جنگل والے علاقے سے جنگجوؤں کی واپسی کے دوران اسےضبط کیا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر جنوبی لبنان کے کئی مقامات پرشدید بمباری کی۔ دوسری طرف حزب اللہ نے کم سے کم 15 راکٹ داغے ہیں۔