.

ایرن مخالف کرد رہ نما عراق میں اغوا کے بعد قتل،ایران کے ملوث ہونے کا شبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے ہفتے کے روز بتایا کہ عراقی شہراربیل میں جماعت کے ایک سینیر رہ نما موسیٰ بابا خانی کو مبینہ طور پراغوا کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔ کردستان 24 ٹی وی کےمطابق کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے رہ نما کےقتل کا الزام ایران پر عاید کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کےصوبہ کردستان کے دارالحکومت اربیل میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی نے جمعرات کو پیش آنے والے واقعے کی انکوائری کے لیے فوری تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اغوا اور تشدد کیا گیا

پارٹی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ باباخانی کو ایران سے وابستہ دو افراد نے گذشتہ جمعرات کو اغوا کیا تھا جس کے بعد ان کی لاش عراق کے کردستان کے دارالحکومت اربیل کے ایک ہوٹل سے ملی ہے اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔

’کے ڈی پی‘ نے ایرانی سکیورٹی فورسز کو باباخانی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔

مقتول کی عمر 39 سال ہے۔ ان کا تعلق ایران کے شہر کرمان شاہ سے اور وہ بیس سال سے 20 سال سے ڈیموکریٹک پارٹی کے متحرک رکن رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب ملیشیا سے وابستہ میڈیا نے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے موسیٰ باب خانی کو اربیل میں کرد دہشت گرد گروہ کے رہ نماؤں میں سے ایک قرار دیا گیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ بابا خانی کو نامعلوم افراد نے عراق میں قتل کیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایک مسلح گروہ نے اربیل میں اس ہوٹل کے کمرے پر چھاپہ مارا جس میں بابا خانی مقیم تھے۔ حملہ آوروں نےکمرے میں گھس کر بابا خانی کو موت کےگھاٹ اتار دیا۔