.
ایرانی ملیشیا

الحشد ملیشیا کے سربراہ کا ’پاسداران انقلاب‘ عراقی ایڈیشن کی تیاری پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز ’الحشد‘ کے سربراہ فالح الفیاض نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تجربے کو عراق میں بھی ایسی ہی ایک فورس کی تشکیل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف حسین سلامی نے الحشد کو ایک مقبول "جہادی تنظیم" قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران میدان جنگ میں اپنا بنیادی لفظ کہتا ہے۔

کل اتوار کو سلامی نے فالح الفیاض سے ملاقات کےبعد پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام اور کو قاسم سلیمانی کے خون اور امداد کی وجہ سے پاسداران انقلاب پر فخر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ’آئی آر جی سی‘ کے اس ماڈل پر فخر ہے جو اسلامی انقلاب کی خصوصیات رکھتا ہے۔ آج ہم پاسداران انقلاب کے تجربے کو عراقی قوانین اور خصوصیات کے مطابق استعمال کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

حسین سلامی نے کہا کہ ہم میدان جنگ میں اپنے بنیادی الفاظ کہتے ہیں۔ حقیقی سیاسی قوتیں زمین پر موجود قوتیں ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ الحشد ملیشیا ایران کے ساتھ اپنی وفاداری کا کھل کر اظہار کرتی ہے۔ نہیں چھپاتی۔ الحشد ملیشیا کو عراق سیکیورٹی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور یہ براہ راست اپنے کمانڈر ان چیف یعنی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کے حکم کی پابند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاد کے میدان میں الحشد نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس کی قوت ایک دفاعی جہادی قوت ہے۔ عظیم امنگوں، پختہ ایمان اور داخلی نظم وضبط سے اس کی قوت میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے۔

حسین سلامی نے مزید کہا کہ ہم اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ آج عراق میں کیا ہو رہا ہے۔عراق میں مزاحمت نے امریکی سامراج کو کمزور کرکے اسے تباہ کردیا اور واپسی پر مجبور کیا۔