.

اسرائیل حزب اللہ پر دباؤ کے لیے لبنان میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب یہ معلومات سامنے آ رہی ہیں کہ اسرائیلی فورسز حالیہ واقعات کی روشنی میں لبنان کے ساتھ سرحد پر چوکنا ہو گئی ہیں دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے ایران یا اس کے ایجنٹوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جذبات کو قابو میں رکھنے کا فیصلہ حزب اللہ کے ساتھ بڑی جنگ نہ شروع کرنے کی خاطر کیا گیا۔

اسرائیلی حکومتی ذرائع کا اس بات پر زور ہے کہ حزب اللہ یا ایرانہ اہداف پر فوجی کارروائی کی صورت میں جواب نہ دینے کا فیصلہ واشنگٹن کے دباؤ پر نہیں کیا گیا ہے۔

کئی ذرائع نے انگریزی ویب سائٹ "Breaking Defence"کو یہ انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں حساس اہداف کی فہرست تیار کر لی جس میں اہم بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ اس کی تباہی کے نتیجے میں حزب اللہ پر سیاسی دباؤ پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق اگر ایران نواز ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغنے کا نیا سلسلہ شروع کیا تو لبنان میں مذکورہ اہداف کو تیزی سے نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے جمعے کے روز حزب اللہ ، لبنانی فوج اور حکومت کو خبردار کیا تھا کہ "ہمیں نہ آزمائیں"۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں گینٹز کا کہنا تھا کہ "لبنان کی صورت حال خوف والی ہے، ہم اسے بدتر بنا سکتے ہیں"۔

یاد رہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے کئی برس بعد لبنان میں پہلی مرتبہ فضائی حملے کیے ہیں۔ فضائیہ کے مطابق اس نے جنوبی لبنان میں اُن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سے شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے گئے تھے۔