.

ایران نے عراق کو بجلی کی برآمد روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت بجلی نے عراق کے لیے بجلی کی برآمد روک دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات آج منگل کے روز ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتائی۔

اگرچہ عراق تیل پیدا کرنے والا ملک ہے تاہم وہ توانائی کے شعبے میں انتہائی حد تک ایران پر انحصار کرتا ہے۔ عراق اپنی گیس اور بجلی کی ضروریات کا ایک تہائی حصہ ایران سے لیتا ہے۔ عراق کا بوسیدہ بنیادی ڈھانچہ اپنی 4 کروڑ کی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں خود کفیل ہونے سے قاصر ہے۔

تہران کا بغداد سے مطالبہ ہے کہ وہ عراقی وزارت بجلی پر واجب الادا 6 ارب ڈالر کی رقم کی ادائیگی کرے۔ امریکی پابندیوں کے سبب عراق ڈالر کی شکل میں ایران کو کسی قسم کی ادائیگی نہیں کر سکتا۔

امریکا نے رواں سال مارچ میں عراق کو 120 روز کی چھوٹ دی تھی تا کہ وہ بجلی کی مد میں ایران کو ادائیگی کر سکے۔

جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی آخری چھوٹ کے تحت عراق چار ماہ (یکم اپریل سے یکم اگست) تک اپنے پڑوسی ایران سے بجلی اور گیس درآمد کرتا رہا۔