جدہ: مساجد کو مخصوص مقاصد کے سوا دیگرکاموں کے لیے استعمال کرنے کی ممانعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی مساجد انتظامیہ اور دعوت وارشاد کی طرف سے گورنری کی تمام مساجد کے منتظمین کو ایک سرکلر کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اللہ کے گھروں کو عبادت اور مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد کے سربرہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مساجد کو صرف انہی مقاصد کے لیے استعمال کریں جن کی اجازت دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی مراکز کے قریب واقع مساجد کو کسی قسم تجارتی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے اجازت نہیں۔امام اور موذن کی رہائش گاہوں اور مساجد میں ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں جو مساجد کے مجاز امور اور مقاصد میں شامل نہیں۔ امام اور موذن کے رہائشی کمروں کو وزارت مذہبی امور کے علم کے لائے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح مساجد کے میٹر اور اس کے پانی کو کسی غیرمتعلقہ کام کے لیے استعمال کی اجازت نہیں۔

جدہ میں وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل برائے مساجد ماجد بن محمد شراحیلی نے کہا کہ مسجدوں کی انتظامیہ کو صریح الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے گھروں کو غیرمتعلقہ کاموں کے لیے استعمال کرنے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ وارننگ مساجد کی انتظامیہ کے تمام اراکین کو پہنچا دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں