.

جدہ: مساجد کو مخصوص مقاصد کے سوا دیگرکاموں کے لیے استعمال کرنے کی ممانعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مساجد انتظامیہ اور دعوت وارشاد کی طرف سے گورنری کی تمام مساجد کے منتظمین کو ایک سرکلر کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اللہ کے گھروں کو عبادت اور مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد کے سربرہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مساجد کو صرف انہی مقاصد کے لیے استعمال کریں جن کی اجازت دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی مراکز کے قریب واقع مساجد کو کسی قسم تجارتی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے اجازت نہیں۔امام اور موذن کی رہائش گاہوں اور مساجد میں ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں جو مساجد کے مجاز امور اور مقاصد میں شامل نہیں۔ امام اور موذن کے رہائشی کمروں کو وزارت مذہبی امور کے علم کے لائے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح مساجد کے میٹر اور اس کے پانی کو کسی غیرمتعلقہ کام کے لیے استعمال کی اجازت نہیں۔

جدہ میں وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل برائے مساجد ماجد بن محمد شراحیلی نے کہا کہ مسجدوں کی انتظامیہ کو صریح الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے گھروں کو غیرمتعلقہ کاموں کے لیے استعمال کرنے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ وارننگ مساجد کی انتظامیہ کے تمام اراکین کو پہنچا دی گئی ہے۔