.

سعودی عرب: موڑ دار شاہراہ کے دل کو چھو لینے والے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مغرب میں واقع ’الکر ۔ الھدا‘ شاہرا جہاں دھند کے دلفریب مناظر کی وجہ سے مشہور ہے وہیں یہ سڑک طائف کے پہاڑوں پر پیچ دار موڑوں کی شکل میں دور تک جاتی ہے۔ ان موڑوں نے اس سڑک کو ایک دلفریب مقام بنا دیا ہے۔

جس راستے پر یہ سڑک تعمیر کی گئی ہے یہ 900 سال پرانا ایک تجارتی راستہ ہے جسے اونٹوں اور پیدل چلنے والے قافلوں کےلیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لوگ یہاں پر اونٹ کے ذریعے مکہ تک کا سفر کرتے۔ آج اکیسویں صدی کےدور میں یہاں پر ایک خوبصورت اور کشادہ شاہراہ بن چکی ہے جس پر چوبیس گھنٹے ٹریفک چلتی ہے۔

طائف کایہ پہاڑی علاقہ اکثر بادلوں اور دھند میں گھرا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شاہراہ بھی اکثر دھند کی لپیٹ میں آتی ہے۔ بارش کے موقعے پر اس کا نظارہ اور بھی دلفریب ہوتا ہے۔

طائف کی تاریخ پر نظر رکھنے والے احمد الجعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الکر شاہراہ کی تعمیر سے قبل یہاں پر پتھروں سے بنا ایک راستہ تھا جسے ’درب الجمالہ‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ یہ راستہ 900 سال سے تاجروں کی گذرگاہ تھا۔ سنہ 1380ھ میں یہاں پر ڈبل روڈ تعمیر کی گئی جو مکہ مکرمہ اور طائف کو آپس میں ملاتی ہے۔

سڑک کی تعمیر سے قبل ماضی میں اس راستے سے اونٹوں کے ذریعے مکہ اور طایف کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حمل کی جاتی تھی۔ لوگ اونٹوں پر غلہ ،گھر کے استعمال کی اشیا اور دیگر چیزیں لاتے۔ یہ پہلا پہاڑی راستہ تھا جو الکر کے مقام سے سعودی عرب میں داخل ہوتا۔ طائف سے مکہ آتے ہوئے آدھا دن لگتا اور جاتے ہوئے ایک دن کا سفر ہوتا۔

شاہراہ الکرا لو 1398ھ میں کشادہ کیا گیا۔ شاہ خالد کے دور میں یہ اس سڑک کی پہلی توسیع کی منظوری دی مگر توسیع کا کام شاہ سعود کے دور میں ہوا۔ سنہ 1427ھ کو شاہ عبداللہ نے اس سڑک کو دو رویہ بنانے کی منظوری دی۔ طائف میں پہاڑوں پرموڑوں کی شکل میں یہ سڑک 22 کلو میٹر ہے اور اس کی تیاری پر20 کروڑ 18 ملین ریال کی رقم صرف کی گئی تھی۔